حدیث

’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ القِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ -وَفِي رِوَايَةٍ: النَّارُ- لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ».

ترجمہ

ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان پانچ باتیں کہنے کے لیے کھڑے ہوئے، اور فرمایا: ’’اللہ عزوجل نہیں سوتا، اور نہ ہی سونا اس کے شایان شان ہے، وہ ترازو کو جھکاتا اور اٹھاتا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کے پاس پیش کیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے -اور ایک روایت میں: آگ ہے- اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال وجمال ان تمام مخلوقات کو جلا دے گا جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے گی‘‘۔

تشریح

نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو خطبہ دیتے ہوئے پانچ مکمل جملے ارشاد فرمائے، جو یہ ہیں: پہلاجملہ: اللہ عزوجل سوتا نہیں ہے۔ دوسرا جملہ: اس کی کامل قیّومیت اور مکمل حیات کی وجہ سے اس کے حق میں نیند محال ہے۔ تیسرا جملہ: اللہ تعالیٰ میزان کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے؛ بندوں کے ان اعمال کے وزن کے ذریعے جو اس کی طرف بلند ہوتے اور چڑھتے ہیں اور ان کی روزیوں کے وزن کے ذریعے جو زمین کی طرف نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رزق جو ہر مخلوق کا حصہ اور نصیب ہے، اللہ سبحانہ اسے پست کرکے تنگ کردیتا ہے اور بلند کرکے کشادہ کردیتا ہے۔ چوتھا جملہ: بندوں کے رات کے اعمال اگلے دن سے پہلے اور دن کے اعمال اگلی رات سے پہلے اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ نگہبان فرشتے رات کے اعمال اس کے ختم ہونے پر دن کے شروع میں، اور دن کے اعمال اس کے ختم ہونے پر رات کے شروع میں اوپر لے جاتے ہیں۔ پانچواں جملہ: اللہ سبحانہ و تعالی کا حجاب جو اس کے دیدار سے مانع ہے، نور ہے یا آگ۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہوجائیں؛ چنانچہ اس کے چہرے کی تجلیات اس کا نور، اس کا جلال اور اس کی شان ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دیدار سے مانع چیز یعنی حجاب کو ہٹا دے اور اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے، تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ اس کی ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے؛ اور اس سے مراد تمام مخلوقات ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نگاہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔

فوائد

  • اللہ سبحانہ و تعالی کے لئے سونے کے محال ہونے کا بیان، کیونکہ یہ نقائص میں سے ہے اور اللہ ان سے پاک ہے۔
  • اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے۔
  • اعمال ہر دن اور ہر رات اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، اس میں بندوں کے لیے ترغیب ہے کہ وہ اپنے شب وروز میں اللہ عز وجل کو نگہبان جانیں۔
  • یہ حدیث اللہ سبحانہ کے عدل اور اپنی مخلوق کے امور سے متعلق اس کے حسنِ تدبیر پر دلالت کرتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ جل وعلا کی صفاتِ کمال میں سے ہے۔
  • اللہ سبحانہ و تعالی کے لیے حجاب کا ثبوت، یہ وہ نور ہے جو اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان حائل ہے، اگر یہ نہ ہوتا تو وہ جل کر خاک ہو جاتے۔
  • آجُرِّی کہتے ہيں: "اہل حق اللہ کے عز و جل کے وہی اوصاف بیان کرتے ہیں جو خود اللہ تبارک و تعالی نے بیان کیے ہیں، اس کے رسول ﷺ نے بیان کیے ہیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بیان کیے ہیں۔ یہی اتباع سنت کے علم بردار اور بدعت سے گریزاں رہنے والے علما کا مسلک ہے۔" چنانچہ اہل سنت اللہ تبارک و تعالی کے انھیں اسما وصفات کو ثابت کرتے ہیں جنھیں خود اللہ نے اپنے لیے ثابت کیا ہے۔ وہ بھی تحریف، تعطلیل، تکییف اور تمثیل سے دامن بچاتے ہوئے۔ نیز اللہ کی ذات سے ان اسما وصفات کی نفی کرتے ہیں، جن کی نفی اس نے خود کی ہے اور جن اسما وصفات کے بارے میں نفی واثبات کچھ نہیں وارد ہو، ان کے بارے میں خاموش رہتے ہيں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "اس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے"۔
  • وہ نور جو اللہ سبحانہ تعالی کا وصف ہے، اس نور سے الگ ہے جس کے ذریعہ اس نے حجاب اختیار کیا ہے۔ وہ نور جس سے اس نے حجاب اختیار کیا ہے، ایک مخلوق نور ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا نور تو ایسا نور ہے جو اس کی ذات کے شایان شان ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور نبی ﷺ نے جو دیکھا تھا وہ تو بس وہی حجاب تھا جو اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان حائل ہے۔
تشریح: العربية

قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبًا في أصحابه بخمس جملٍ تامة، وهي: الأولى: بأن الله عز وجل لا ينام. الثانية: يستحيل في حقه النوم؛ لكمال قيوميته وحياته. الثالثة: أنه تعالى يخفض الميزان ويرفعه بما يوزن من أعمال العباد المرتفعة الصاعده إليه، ويوزن من أرزاقهم النازلة إلى الأرض، فالرزق الذي هو قسط ونصيب كل مخلوق يخفضه سبحانه فيقتره، ويرفعه فيوسعه. الرابعة: يُرفع إليه ما عمل العباد بالليل قبل النهار الذي بعده، وعملهم بالنهار قبل عمل الليل الذي بعده؛ فالملائكة الحفظة يصعدون بأعمال الليل بعد انقضائه في أول النهار، ويصعدون بأعمال النهار بعد انقضائه في أول الليل. الخامسة: حجابه سبحانه المانع من رؤيته النور أو النار، لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه؛ فسبحات وجهه نوره وجلاله وبهاؤه. والتقدير: لو أزال وكشف المانع من رؤيته وهو الحجاب، وتجلى لخلقه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه؛ وهي جميع المخلوقات؛ لأن بصره سبحانه وتعالى محيط بجميع الكائنات.

  • بيان استحالة النوم على الله سبحانه وتعالى؛ لكونه من النقائص وهو منزه عنها.
  • الله تعالى يُعزُّ من يشاء ويذل من يشاء، ويهدي من يشاء ويضل من يشاء من عباده.
  • الأعمال ترفع إلى الله كل يوم وكل ليلة، وفي ذلك حث للعباد أن يراقبوا الله عز وجل في ليلهم ونهارهم.
  • الحديث يدل على عدل الله سبحانه وحسن تدبيره لأمور خلقه، ولا شك أن هذا من صفات كماله جل وعلا.
  • إثبات الحجاب له سبحانه وتعالى، وهو النور الحائل بينه وبين خلقه، ولولاه لاحترقوا.
  • قال الآجُرِّي: إنَّ أهل الحق يَصِفُون الله عز وجل بما وصف به نفسه عز وجل، وبما وصفه به رسوله صلى الله عليه وسلم، وبما وصفه به الصحابة رضي الله عنهم، وهذا مذهب العلماء ممن اتبع ولم يبتدع. انتهى. فأهل السنة يُثْبِتُون لله ما أثبته لنفسه من الأسماء والصفات من غير تحريف ولا تعطيل ولا تكييف ولا تمثيل، ويَنْفُون عن الله ما نفاه عن نفسه، ويَسْكُتُون عما لم يرد به نفي ولا إثبات، قال الله تعالى: {لَيْسَ ‌كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}.
  • النور الذي هو وصفه سبحانه وتعالى غير النور الذي احتجب به، النور الذي احتجب به نور مخلوق، فنور الله تعالى نور يليق به وبذاته، ليس كمثله شيء، والذي رآه النبي صلى الله عليه وسلم ما هو إلا الحجاب الذي يكون بين الله وبين عباده.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید