ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَحْنُ آخِرُ الأُمَمِ، وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ، يُقَالُ: أَيْنَ الأُمَّةُ الأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الآخِرُونَ الأَوَّلُونَ».
ترجمہ
ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہم سب سے آخری امت ہیں، اور سب سے پہلے ہمارا حساب وکتاب ہوگا، کہا جائے گا: امی امت اور اس کا نبی کہاں ہے؟ چنانچہ ہم ہی سب سے پیچھے اور سب سے آگے ہیں۔“
تشریح
نبی ﷺ نے خبر دی کہ آپ کی امت وجود اور زمانے کے اعتبار سے آخری امت ہے اور یہی وہ پہلی امت ہے جس کا بروز قیامت سب سے پہلے حساب وکتاب ہوگا۔ چنانچہ بروز قیامت کہا جائے گا: ”امی امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟“ یہ نسبت آپ ﷺ کے امی ہونے یعنی پڑھنے اور لکھنے سے ناواقفیت کی طرف ہے۔ چنانچہ انہیں سب سے پہلے حساب کے لیے بلایا جائے گا، ہم زمانے اور وجود کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں، اور قیامت کے دن حساب وکتاب میں اور جنت میں داخل ہونے میں سب سے آگے ہوں گے۔
فوائد
- سابقہ امتوں پر اس امت کی فضیلت۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن أمته هي آخر الأمم وجودًا وزمانًا وهي أول الأمم التي ستحاسب يوم القيامة، فيُقال في يوم القيامة: أين الأمة الأميَّة ونبيها؟ منسوبة إلى أميته صلى الله عليه وسلم في عدم القراءة والكتابة. فينادون للحساب أولًا، فنحن الآخِرون في الزمان والوجود، والأولون في الحساب يوم القيامة وفي دخول الجنة.
- أفضلية هذه الأمة على الأمم السابقة.