حدیث

انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه البخاري

عربی متن

عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «كَانَتْ مَدًّا»، ثُمَّ قَرَأَ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ.

ترجمہ

قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“، پھر انھوں نے بسم الله الرحمن الرحيم پڑھ کر سنائی؛ آپ بسم اللہ کو کھینچتے، الرحمن کو کھینچتے اور الرحیم کو کھینچتے تھے۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ قرآن کیسے پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کی قراءت مد والی تھی؛ آپ ﷺ الله کے لام کو، الرحمن کے میم کو اور الرحیم کی حا کو کھینچتے تھے۔“

فوائد

  • مد سے مراد حروفِ مدہ یعنی الف، واو اور یاء کو کھینچ کر پڑھنا ہے، جب وہ ساکن ہوں اور ان سے پہلے ان کے مناسب حرکت ہو۔
  • تلاوتِ قرآن کے سلسلے میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
  • نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت بیان کرنے کی عملی تطبیق۔
  • سندھی کہتے ہيں: ان کے قول ”يمد صوته مدًا“ سے مراد یہ ہے کہ وہ ان حروف کو دراز کرتے ہیں جو دراز کیے جانے کے لائق ہوں، تاکہ اس کے ذریعے تدبر وتفکر میں مدد حاصل کریں اور نصیحت قبول کرنے والوں کو یاد دہانی کرائیں۔
  • تجوید اور علوم قرآن جاننے کی اہمیت۔
  • نصوص کو سمجھنے کے لیے علماء کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے سائل کے لیے وضاحت فرما دی۔
تشریح: العربية

سئل أنس بن مالك رضي اللّه عنه كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم للقرآن؟ فقال: كان يمدُّ صوته بالقراءة مدًّا؛ يمد اللام التي قبل الهاء من الجلالة، ويمد الميم التي قبل النون من الرحمن، ويمد الحاء من الرحيم.

  • المد إشباع حروف المد وهي الألف والواو والياء، إذا كانت ساكنة وقبلها حركة تناسبها.
  • بيان هدي النبي صلى الله عليه وسلم في قراءة القرآن.
  • التطبيق العملي لبيان كيفية قراءة النبي صلى الله عليه وسلم.
  • قال السندي: قوله: (يمد صوته مدًا)، أي يطيل الحروف الصالحة للإطالة يستعين بها على التدبر والتفكر وتذكير من يتذكر.
  • أهمية معرفة التجويد وعلوم القرآن.
  • فهم النصوص يُرَجع فيه للعلماء، كما سئل أنس رضي الله عنه فبيَّن للسائل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید