ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -قَالَ: أَبُو عَامِرٍ، قَالَ نَافِعٌ: أُرَاهَا حَفْصَةَ- أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّكُمْ لَا تَسْتَطِيعُونَهَا قَالَ: فَقِيلَ لَهَا أَخْبِرِينَا بِهَا. قَالَ: فَقَرَأَتْ قِرَاءَةً تَرَسَّلَتْ فِيهَا قَالَ أَبُو عَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَكَى لَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] ثُمَّ قَطَّعَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] ثُمَّ قَطَّعَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}.
ترجمہ
ابن ابی مُلَیکَہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے -ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: میرے خیال میں وہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں- کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔ ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: پھر ابن ابی مُلَیکَہ نے ہمیں {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پڑھ کر سنایا، پھر {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} پر ٹھہرے، پھر {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} پر ٹھہرے۔
تشریح
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قرأتِ قرآن کیسی تھی؟ اس پر انہوں نے کہا: تم لوگ اس جیسی قراءت نہیں کر سکتے، تو ان سے کہا گیا: ہمیں بتا دیجیے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن ابی مُلَیکَہ نے نبی ﷺ کی قراءت کا طریقہ بیان کرنے کے لیے ہمارے سامنے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی، چنانچہ انہوں نے پڑھا: {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، پھر ٹھہر گئے، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، پھر ٹھہر گئے، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}۔
فوائد
- قرآن کریم کی تلاوت میں نبی ﷺ کے طریقے کا بیان۔
- نبی اکرم ﷺ کی قراءت کی کیفیت کا عملی بیان۔
- قرآن کی قراءت میں ترتیل کی مشروعیت، کیونکہ یہ قرآن میں تدبر کا زیادہ باعث ہے۔
- قرآن کریم اور نبی ﷺ کے عمل کے تئیں سلف صالحین کا اہتمام۔
- تجوید اور علومِ قرآن جاننے کی اہمیت۔
تشریح: العربية
سئلت حفصة أم المؤمنين رضي الله عنها: كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم للقرآن؟ فقالت: إنكم لا تقدرون على مثلها، فقيل لها: أخبرينا. قال نافع فقرأ لنا ابن أبي مليكة قراءة تمهل فيها؛ لتحكي وتقرب لهم كيفية قراءة النبي صلى الله عليه وسلم، فقرأ: {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} ثم قطع القراءة، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، ثم قطع القراءة، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}.
- بيان هدي النبي صلى الله عليه وسلم في قراءة القرآن.
- التطبيق العملي لبيان كيفية قراءة النبي صلى الله عليه وسلم.
- مشروعية الترسُّل في قراءة القرآن فهو أدعى إلى تدبره.
- اهتمام السلف الصالح بالقرآن الكريم وبعمل النبي صلى الله عليه وسلم.
- أهمية معرفة التجويد وعلوم القرآن.