ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحرواه مسلم
عربی متن
عن أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهُ صلَّى اللهُ عليهِ وَسَلَّم: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ».
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اپنے مرنے والوں کو ”لا الہ الا اللہ“ کی تلقین کرو۔‘‘
تشریح
اس حدیث میں نبی ﷺ ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم جاں کنی کے عالم میں مبتلا شخص کو کلمہ توحید "لا إله إلا الله" کی تلقین کریں، تاکہ وہ اسے اپنی زبان سے ادا کرے اور یہی اس کا آخری کلام ہو۔
فوائد
- جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہو اسے (کلمہ توحید کی) تلقین کرنا مستحب ہے۔
- جاں کنی کی حالت میں کثرت سے -کلمۂ توحید کی- تلقین کرنا مکروہ ہے، جب وہ ایک بار پڑھ لے یا اس کی طرف سے سمجھ لیا جائے تو اس پر اصرار کرنا بھی مکروہ ہے؛ تاکہ وہ بیزار ہو کر کوئی نامناسب بات نہ کہہ دے۔
- نووی کہتے ہیں: جب وہ ایک بار کہہ دے تو اسے دوبارہ تلقین نہ کی جائے، الا یہ کہ وہ اس کے بعد کوئی دوسری بات کرے، تو اسے دوبارہ تلقین کی جائے تاکہ وہی اس کا آخری کلام ہو۔
- اس حدیث میں محتضر (وہ شخص جس کی موت کا وقت آچکا ہو) کے پاس حاضر ہونے، اسے یاد دہانی کرانے، تسلی دینے، اس کی آنکھیں بند کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کا بیان ہے۔
- موت اور تدفین کے بعد قبر پر تلقین کرنا مشروع نہیں ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔
تشریح: العربية
يحثُّ النبي صلى الله عليه وسلم: أن نقول ونردد كلمة التوحيد "لا إله إلا الله" عند مَن حضرته نزعات الموت حتى يقولها، لتكون آخر كلامهم.
- استحباب التلقين لمن حضره الموت.
- كراهة الإكثار على المحتضر من التلقين، والإلحاح عليه إذا هو تلقنها، أو فهم عنه ذلك؛ لكي لا يُضجِرَه فينطق بما لا يليق.
- قال النووي: وإذا قاله مرة لا يكرر عليه إلا أن يتكلم بعده بكلام آخر، فيُعاد التعريض به ليكون آخر كلامه.
- يتضمن الحديث الحضور عند المحتضر لتذكيره وتأنيسه وإغماض عينيه والقيام بحقوقه.
- عدم مشروعية التلقين بعد الموت وعند القبر بعد الدفن؛ لعدم فعل النبي صلى الله عليه وسلم ذلك.