حدیث

’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ المُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمَّعَهَا اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ المُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» قَالَ جَابِرٌ: وَكَانَتِ الأَنْصَارُ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ، ثُمَّ كَثُرَ المُهَاجِرُونَ بَعْدُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: أَوَقَدْ فَعَلُوا، وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا المُنَافِقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ، لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ».

ترجمہ

جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ہم ایک غزوہ میں تھے کہ ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کو پیچھے سے مارا۔ اس پر انصاری نے پکارا: ’’اے انصارو!‘‘ اور مہاجر نے پکارا: ’’اے مہاجرو!‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کو پیچھے سے مارا، جس پر انصاری نے پکارا: اے انصارو! اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کیونکہ یہ ایک بدبودار چیز ہے‘‘۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تھے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ یہ سن کر عبداللہ بن اُبی نے کہا: کیا انہوں نے ایسا کر دیا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والا وہاں سے ذلیل کو ضرور نکال باہر کرے گا۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں‘‘۔

تشریح

نبی کریم ﷺ ایک غزوہ میں سفر پر تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین وانصار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، تو ایک مہاجر شخص نے ایک انصاری شخص کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے ضرب لگائی۔ تو انصاری نے پکارا: اے انصارو! میری مدد کرو، اور مہاجر نے پکارا: اے مہاجرو! میری مدد کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا: ایک مہاجر نے ایک انصاری کی پیٹھ پر اپنے ہاتھ سے مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصارو، میری مدد کے لیے آؤ۔ اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرو، میری مدد کے لیے آؤ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس جاہلانہ عادت کو چھوڑ دو کیونکہ یہ قبیح، ناپسندیدہ اور تکلیف دہ عادت ہے؛ اور وہ یہ ہے کہ جب آدمی پر اس کا مخالف غالب آجاتا ہے تو وہ اپنی قوم کو پکارتا ہے، پھر وہ لوگ جہالت اور عصبیت کی بنا پر اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑتے ہیں، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو انصار کی تعداد زیادہ تھی، پھر بعد میں مہاجرین کی تعداد بڑھ گئی۔ تو نفاق کے سرغنہ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہا: ”کیا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے؟! اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو عزت والے -یعنی وہ خود اور اس کے ساتھی- وہاں سے ذلت والوں کو -یعنی نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو- نکال باہر کریں گے۔“ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کا سر قلم کر دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے پیروکاروں کو قتل کرتا ہے، خواہ ظاہری طور پر ہی سہی۔

فوائد

  • جاہلیت کی مذموم عادات اور روایات سے منع کیا گیا ہے، خواہ وہ قولی ہوں یا فعلی۔ اسلام اسی لیے آیا ہے کہ لوگوں کو ان سے دور کرے اور انہیں اس چیز کی رہنمائی کرے جو ان کے لیے درست اور حق ہے۔
  • باطل گروہ بندی سے خبردار کرنا، اور اس سے ایک بدبودار اور قبیح چیز کی طرح بچنا۔
  • ہر اس چیز کی ممانعت جو عداوت اور بغض پیدا کرے۔
  • امام نووی فرماتے ہیں: نبی ﷺ کا اسے ’جاہلیت کا دعویٰ‘ قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے تھے، کیونکہ یہ جاہلیت کے اُن کاموں میں سے تھا جو وہ دنیاوی امور میں قبائلی تعلقات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے کرتے تھے۔ دورِ جاہلیت میں لوگ اپنے حقوق اپنے رشتہ داروں اور قبیلوں کے زور پر حاصل کرتے تھے، پھر اسلام نے اس چیز کو باطل قرار دیا اور تمام مقدمات کا فیصلہ شرعی احکام کے مطابق کرنا لازم کیا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دوسرے پر زیادتی کرتا ہے تو قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اسے اس کی زیادتی کے تقاضے کا پابند کرتا ہے، جیسا کہ اسلامی قواعد میں ثابت ہے۔
  • سندھی کہتے ہیں: اس سے واضح ہوا کہ کسی کی مدد محض اس لیے کرنا کہ وہ اپنے قبیلے کا ہے، جیسا کہ اہل جاہلیت کا طریقہ تھا، باطل ہے۔ لہٰذا اس کا کوئی جواز نہیں کہ ہر شخص اپنے قبیلے کو ندا لگائے۔ رہی حق کی نصرت، تو وہ ہر مومن پر لازم ہے، خواہ وہ اس کے قبیلے کا ہو یا نہ ہو۔
  • منافقین کی بد زبانی اور نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف ان کی جرأت۔
  • منافقوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیت پر نبی ﷺ انتہائی تحمل اور صبر سے کام لیتے تھے۔
  • ہر اس عمل سے خبردار کیا گیا ہے جو لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے متنفر کرے، اسی لیے نبی ﷺ نے منافقوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا، تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم مسافرًا في غزوة ومعه أصحابه من المهاجرين والأنصار رضي الله عنهم، فضرب رجل من المهاجرين دبر رجل من الأنصار بيده. فقال الأنصاري: أغيثوني أيها الأنصار، وقال المهاجري: أغيثوني أيها المهاجرون، فسمعها رسول صلى الله عليه وسلم قال: ما هذا؟ فقالوا: ضرب رجل من المهاجرين دبر رجل من الأنصار بيده، فقال الأنصاري: أغيثوني أيها الأنصار، وقال المهاجري: أغيثوني أيها المهاجرون. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعوا هذه العادة الجاهلية فإنها قبيحة كريهة مؤذية؛ وهي أن الرجل إذا غلب عليه خصمه نادى قومه فيبتدرون إلى نصرته ظالمًا كان أو مظلومًا جهلًا منهم وعصبية. قال جابر: وكانت الأنصار حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة مهاجرًا أكثر، ثم كثر المهاجرون بعد. فقال رأس النفاق عبد الله بن أبي بن سلول: أوقد وصل الأمر لهذا الحد؟! والله لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعزاء -يعني نفسه ومن معه- من المدينة الأذلاء -يعني النبي صلى الله عليه وسلم ومن معه-. فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه: دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق، قال النبي صلى الله عليه وسلم: دعه، لا يتحدث الناس أن محمدًا يقتل أتباعه ولو في الظاهر.

  • النهي عن عادات الجاهلية المذمومة وتقاليدها، قولًا أو فعلًا، فالإسلام جاء لإبعاد الناس عن ذلك، وهدايتهم إلى ما هو الصواب والحق لهم.
  • التحذير من التحزب الباطل والحذر منه كالحذر من الشيء النتن القبيح.
  • النهي عن كل ما يثير العداوة والشحناء.
  • قال النووي: تسميته صلى الله عليه وسلم ذلك دعوى الجاهلية فهو كراهة منه لذلك، فإنه مما كانت عليه الجاهلية من التعاضد بالقبائل في أمور الدنيا ومتعلقاتها، وكانت الجاهلية تأخذ حقوقها بالعصبات والقبائل، فجاء الإسلام بإبطال ذلك، وفصل القضايا بالأحكام الشرعية، فإذا اعتدى إنسان على آخر حكم القاضي بينهما، وألزمه مقتضى عدوانه كما تقرر من قواعد الإسلام.
  • قال السندي: فبين أن النصرة لكونه من قبيلته كما عليه أهل الجاهلية باطل، فلا وجه لاستدعاء كل أحد قبيلته، وأما نصرة الحق فمطلوب لازم على كل مؤمن سواء كان من قبيلته أو لا.
  • ما كان عليه المنافقون من بذاءة اللسان والجراءة على النبي صلى الله عليه وسلم وعلى أصحابه رضي الله عنهم.
  • ما كان النبي صلى الله عليه وسلم عليه من شدة الحلم والصبر على ما يناله من أذية المنافقين.
  • التحذير من كل عمل فيه تنفير الناس عن الدخول في الإسلام، ولذلك امتنع النبي صلى الله عليه وسلم من قتل المنافقين لئلا يقول الناس: إن محمدًا يقتل أصحابه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید