حدیث

اللہ کے نبی ﷺ نے کسری، قیصر، نجاشی اور ہر جابر بادشاہ کو خط لکھ کر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى كِسْرَى، وَإِلَى قَيْصَرَ، وَإِلَى النَّجَاشِيِّ، وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی ﷺ نے کسری، قیصر، نجاشی اور ہر جابر بادشاہ کو خط لکھ کر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، اور یہ وہ نجاشی نہیں تھے جن کی نبی ﷺ نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔

تشریح

انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے ارد گرد کی قوموں کے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے خطوط لکھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے کسری کو لکھا، جو فارس کے ہر بادشاہ کا لقب ہے، قیصر کو لکھا، جو روم کے ہر بادشاہ کا لقب ہے اور نجاشی کو لکھا، جو حبشہ کے بادشاہوں کا لقب ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں پر مسلط ہر جابر وقاہر بادشاہ کو بھی خط لکھا، انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جس نجاشی کو خط لکھا گیا تھا وہ، وہ نجاشی نہیں تھا جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا، جن کی وفات ہوئی اور جن کی نبی ﷺ نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔

فوائد

  • غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی مشروعیت، بشمول ان کے بادشاہوں اور امراء کے۔
  • کتاب ورسائل پر عمل کرنے کی مشروعیت۔
تشریح: العربية

يخبر أنس بن مالك رضي الله عنه، أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب قبل موته إلى من حوله من ملوك الأمم يدعوهم إلى الإسلام؛ فكتب إلى كسرى وهو لقبٌ لكل مَن مَلَكَ الفرس، وإلى قيصر وهو لقبٌ لكل من ملك الروم، وإلى النجاشي وهو لقب ملوك الحبشة. وكتب أيضًا إلى كل ملك جبار مسلَّطٍ على الناس، وقاهر لهم، وبيَّن أنس رضي الله عنه أن النجاشي الذي كُتِبَ له ليس هو النجاشي الذي أسلم وتوفي وصلَّى عليه النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الغائب.

  • مشروعية دعوة غير المسلمين إلى الإسلام، بما في ذلك ملوكهم وأمراؤهم.
  • مشروعية العمل بالكتاب والرسائل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید