حدیث

اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، چنانچہ مسلمانوں میں سے جس کسی شخص کو میں نے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت کی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اسے اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔»

تشریح

نبی ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! میں بھی ایک بشر ہی ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آجاتا ہے جس طرح انسانوں کو آتا ہے۔ لہذا جس کسی مومن کو میں نے تکلیف دی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، یا اس پر لعنت بھیجی ہو، یا اسے مارا ہو، تو اس عمل کو اس کے لیے پاکیزگی، قربت، گناہوں سے صفائی، کفارہ اور ایسی رحمت بنا دے جس کے سبب تو اس پر رحم فرمائے۔

فوائد

  • اللہ کے نبی ﷺ کا عظیم اخلاق۔
  • ابن حجر کہتے ہیں: اس حدیث سے اپنی امت پر آپ ﷺ کی کمالِ شفقت، آپ کا حسنِ اخلاق اور آپ کی ذات کا کرم معلوم ہوتا ہے، کہ آپ ﷺ نے آپ سے سرزد ہونے والے فعل کے جواب میں دل جوئی اور تکریم کا قصد فرمایا۔
  • نووی کہتے ہیں: اگر یہ سوال کیا جائے کہ آپ ﷺ کسی ایسے شخص کو کیسے بد دعا دے سکتے ہیں، یا اسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں، یا اس پر لعنت بھیج سکتے ہیں جو اس کا اہل نہ ہو؟ تو اس کا جواب وہی ہے جو علماء نے دیا ہے، اور اس کی دو توجیہات ہیں: پہلی توجیہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص حقیقت میں اللہ تعالی کے نزدیک اس کا اہل نہیں ہوتا، لیکن بظاہر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ کے سامنے کسی شرعی علامت کی بنا پر اس کا مستحق ہونا ظاہر ہو جاتا ہے، جب کہ درحقیقت وہ اس کا اہل نہیں ہوتا۔ جبکہ نبی ﷺ کو ظاہر پر حکم لگانے کا حکم دیا گیا ہے، اور باطنی امور اللہ کے سپرد ہیں۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کسی کو برا بھلا کہنا یا بد دعا دینا وغیرہ مقصود نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ عربوں کی عادت کے مطابق تکیہ کلام کے طور پر بغیر کسی نیت کے ہوتا تھا، جیسے ان کا کہنا: تَرِبَت يمينك (تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں)، عَقْرَى حَلْقَى (تو ہلاک ہو جا)۔ اور اسی حدیث میں آیا ہے: (لا كبرت سنك) (تیری عمر دراز نہ ہو)، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: (لا أشبع الله بطنك) (اللہ تیرا پیٹ نہ بھرے) وغیرہ۔ ان کلمات سے ان کا مقصد حقیقی بد دعا دینا نہیں ہوتا تھا۔ نبی ﷺ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں ان میں سے کوئی بات قبولیت کی گھڑی سے موافق نہ ہو جائے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے رب سبحانہ وتعالی سے سوال کیا اور درخواست کی کہ وہ اسے رحمت، کفارہ، قربت کا ذریعہ، پاکیزگی اور اجر بنا دے۔ ایسا آپ ﷺ سے کبھی کبھار ہی ہوتا تھا، اور نبی ﷺ نہ تو فحش گو تھے، نہ جان بوجھ کر فحش کلامی کرنے والے تھے، نہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے تھے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے بدلہ لینے والے تھے۔
تشریح: العربية

دعا النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اللهم إنما أنا بشر، أغضب كما يغضب البشر، فأيُّ مؤمن آذيته أو سببته وشتمته، أو لعنته ودعوت عليه بالطرد من رحمتك، أو جلدته وضربته، فاجعل ذلك له زكاة وقربة وتطهيرًا وكفارة ورحمة ترحمه بها.

  • عظيم خلق النبي صلى الله عليه وسلم.
  • قال ابن حجر: في الحديث كمال شفقته صلى الله عليه وسلم على أمته وجميل خلقه وكرم ذاته حيث قصد مقابلة ما وقع منه بالجبر والتكريم.
  • قال النووي: فإن قيل: كيف يدعو على من ليس هو بأهل للدعاء عليه أو يسبه أو يلعنه ونحو ذلك؟ فالجواب ما أجاب به العلماء، ومختصره وجهان: أحدهما: أن المراد ليس بأهل لذلك عند الله تعالى، وفي باطن الأمر، ولكنه في الظاهر مستوجب له، فيظهر له صلى الله عليه وسلم استحقاقه لذلك بأمارة شرعية، ويكون في باطن الأمر ليس أهلًا لذلك، وهو صلى الله عليه وسلم مأمور بالحكم بالظاهر، والله يتولى السرائر. والثاني: أن ما وقع من سبه ودعائه ونحوه ليس بمقصود، بل هو مما جرت به عادة العرب في وصل كلامها بلا نية، كقوله: تَرِبَت يمينك، وعَقْرَى حَلْقَى، وفي هذا الحديث: (لا كبرت سنك)، وفي حديث معاوية: لا أشبع الله بطنك، ونحو ذلك، لا يقصدون بشيء من ذلك حقيقة الدعاء، فخاف صلى الله عليه وسلم أن يصادف شيء من ذلك إجابة، فسأل ربه سبحانه وتعالى ورغب إليه في أن يجعل ذلك رحمة وكفارة، وقربة وطهورًا وأجرًا، وإنما كان يقع هذا منه في النادر والشاذ من الأزمان، ولم يكن صلى الله عليه وسلم فاحشًا ولا متفحِّشًا ولا لعانًا ولا منتقمًا لنفسه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید