حدیث

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا واقعہ اور نبی ﷺ کا انہیں نماز اور وضو سکھانے کا بیان۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن عَبَسة رضي الله عنه قال: كنت وأنا في الجاهلية أظن أن الناس على ضَلالة، وأنهم لَيْسُوا على شيء، وهم يَعبدون الأوثان، فسمعت برجل بمكة يُخبر أخبارًا، فَقَعَدتُ على راحلتي، فقدِمتُ عليه، فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مُسْتَخْفِيًا ، جُرَءآءٌ عليه قومه، فتَلطَّفتُ حتى دخلت عليه بمكة، فقلت له: ما أنت؟ قال: «أنا نَبيٌّ» قلت: وما نَبِيٌّ؟ قال: «أرسلني الله» قلت: وبِأَيِّ شيء أرسلك؟ قال: «أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يُوَحَّد الله لا يُشرك به شيءٌ»، قلت: فمن معك على هذا؟ قال: «حُرٌّ وعَبْدٌ»، ومعه يومئذ أبو بكر وبلال رضي الله عنهما ، قلت: إني مُتَّبِعُكَ، قال: «إنك لن تستطيع ذلك يَوْمَك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟ ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بِي قد ظهرت فأتني». قال: فذهبت إلى أهلي، وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة حتى قدم نَفرٌ من أهلي المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قَدِم المدينة؟ فقالوا: الناس إليه سِرَاعٌ، وقد أراد قومُه قتلَه، فلم يستطيعوا ذلك، فقدمت المدينة، فدخلت عليه، فقلت: يا رسول الله أَتَعْرِفُني؟ قال: «نعم، أنت الذي لَقَيْتَنِي بمكة» قال: فقلت: يا رسول الله، أخبرني عما عَلَّمَك الله وأَجْهَلُهُ، أخبرني عن الصلاة؟ قال: «صَلِّ صلاةَ الصبح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قِيْدَ رمح، فإنها تَطْلُعُ حين تَطلُعُ بين قرني شيطان، وحينئذ يَسجدُ لها الكفار، ثم صلِ فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى يَسْتَقِلَّ الظِّلُ بالرُّمْح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة، فإنه حينئذ تُسْجَرُ جهنم، فإذا أقبل الفيء فَصَلِّ، فإن الصلاة مشهُودةٌ محضُورةٌ حتى تُصلي العصر، ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس، فإنها تَغْرُبُ بين قَرْنَيْ شيطان، وحينئذ يسجدُ لها الكفار» قال: فقلت: يا نبي الله، فالوضوء حدثني عنه؟ فقال: «ما مِنكم رجلٌ يُقَرِّبُ وضوءه، فيتمضمض ويستنشق فيستنثر، إلا خرَّت خطايا وجهه من أطراف لحيته مع الماء، ثم يغسل يديه إلى المرفقين، إلا خرَّت خطايا يديه من أنامله مع الماء، ثم يمسح رأسه، إلا خرَّت خطايا رأسه من أطراف شعره مع الماء، ثم يغسل قدميه إلى الكعبين، إلا خرَّت خطايا رجليه من أنامله مع الماء، فإن هو قام فصلى، فحمد الله تعالى ، وأثنى عليه ومجَّدَه بالذي هو له أهل، وفرَّغَ قلبه لله تعالى ، إلا انصرف من خطيئته كهيئته يومَ ولدَتْه أمه». فحدث عمرو بن عبسة بهذا الحديث أبا أمامة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له أبو أمامة: يا عمرو بن عبسة، انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟ فقال عمرو: يا أبا أُمَامة، لقد كَبِرَتْ سِنِّي، ورقَّ عظمي، واقترب أجلي، وما بِي حاجة أن أَكْذِبَ على الله تعالى ، ولا على رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثًا -حتى عدَّ سبع مرات- ما حدَّثْت أبدًا به، ولكني سمعته أكثر من ذلك.

ترجمہ

عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں کچھ خبریں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس (مکہ) آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چھپ کر اپنا دعوتی کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپﷺ پر دلیر ہے۔ بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ (راوی کا کہنا ہے کہ) اس وقت آپﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ (بالآخر مکہ چھوڑ کر) مدینہ تشریف لے آئے۔ ایسے میں میرے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جو شخص مدینہ آیا ہے اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ تو بہت تیزی سے اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ لہذا میں مدینہ آ گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا: تم صبح کی نماز پڑھو اور اس کے بعد نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کی مقدار کے برابر بلند ہو جائے۔ کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر (اس وقت) نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنے لگے تو نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جو بھی آدمی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں سے نکل کر گر جاتے ہیں۔ چنانچہ (اس کے بعد) اگروہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی، پس اللہ کی اس کے شایانِ شان حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ اس پر عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا، لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

تشریح

عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانۂ جاہلیت میں کیا حال تھا اور کیسے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔زمانۂ جاہلیت ہی میں ان کے دل میں ایک روشنی موجود تھی جس کی وجہ سے ان پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باطل پر اور شرک و گمراہی پر ہیں۔ چنانچہ وہ اس عقیدہ کے حامل نہیں تھے جو ان لوگوں کا عقیدہ تھا۔ پھر انہوں نے سنا کہ مکہ میں اس زمانے ميں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے جو خبریں دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ نبی ﷺ کفارِ قریش کی اذیت کےخوف سے چھپ کر اپنی دعوت دے رہے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے اللہ عز وجل کی طرف دعوت دی اور اس عظیم دین کی خوبیوں کو بیان کیا۔ ان میں سب سے اہم اللہ عز و جل کی توحید اور مکارمِ اخلاق ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں کو اپنی عقل کی بنا پر بھی معلوم ہو جاتی ہیں کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی لیے یہ صحابی اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ مشرکین کا طریقۂ عبادت باطل ہے اور وہ حق کے متلاشی تھے، اللہ تبارک وتعالی ان سے راضی ہو۔ چنانچہ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے ان باتوں کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمايا ہے۔ اور فرمایا: اللہ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینےکے لیے بھیجا ہے۔ صلہ رحمی مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اہل مکہ یہ باتیں پھیلا رہے تھے کہ نبیﷺ قطع رحمی کا مقصد لے کر آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قطع رحمی کے ليے نہیں بلکہ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں۔ اور بتوں کو توڑنے کے لیے۔ یعنی اس چيز کو توڑنے کے لیے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کی جاتی ہے۔ اوریہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے پوچھا: اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ یعنی آپ کے ساتھ اور کون ہے جو اس دین میں داخل ہوچکا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ آزاد شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جب کہ غلام بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپﷺ کی اتباع کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں رہنے کے لیے اپنی قوم کو چھوڑ دیتے تو آپﷺ انہیں کفار سے نہ بچا سکتے چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے کہا: مسلمان ہو کر اپنی قو م میں ہی رہو یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے۔ اس وقت تم آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جانا۔ آپﷺ نے ایسا ہمدردی اور از راہِ شفقت و رحمت فرمایا کیونکہ یہ شخص کمزور تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ یعنی یہ لوگ بہت زیادہ ہیں اور ہمیں اذیت دے رہے ہیں اور میرا ان پر کوئی بس نھیں چلتا، تو میں تمہارا دفاع کیسے کر سکوں گا؟! آپﷺ نے فرمایا: لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ معنی یہ ہے کہ اپنے اسلام پر قائم رہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آنا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے اہل خانہ میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی۔ کیونکہ اسلام ان کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں: اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میں (آپ کی بابت) لوگوں سے پوچھتا رہتا۔ یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مدینہ سے آئے تو میں نے ان سے پوچھا: مدینہ آنے والے اس آدمی کا کیا ہوا؟ گویا کہ وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھ رہے تھے اور اپنی قوم کے ڈر کی وجہ سے اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو اس آدمی کی طرف بہت تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ليكن خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں كر سکے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ چلا آیا اور آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ وہ نبیﷺ سے پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کے وہ کون سے احکام ہیں جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ مجھے وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور جس سے میں ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو۔ یعنی اس کے وقت میں اسے ادا کرو۔ پھر نماز سے رکے رہو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ یعنی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے۔ تاہم آیا جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند نہ ہو جائے۔ یعنی دیکھنے والے کی نگاہ ميں۔ سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے اس وقت میں کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ لھٰذا مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بالارادہ اس وقت تک نماز کو موخر کرے اور نہ ہی سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے لیے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ جنتری میں آپ کو وقت الشروق لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں مراد یہی وقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سورج جس وقت طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ یعنی دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ اسے لکھ سکیں اور جس نے نماز پڑھی ہو اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ اس کا معنی وہی ہے جو ایک دوسری روایت کا ہے جس میں مشهودة مكتوبة کے الفاظ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں تک کہ سایہ (کم ہو کر) نيزے کے برابر ہو آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاو۔ یعنی بوقت زوال جب سورج آسمان کے بالکل درمیان میں انسان کے سر کے عین اوپر آجاتا ہے اور سارا سایہ اس کے پاؤں تلے ہوجاتا ہے تو اس وقت کے بارے میں آپ ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ یہ تقریبا اتنا وقت ہوتا ہے جس میں دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس وقت میں آدمی کو انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ نماز ظہر کے لیے اذان دے دی جائے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے۔ سایہ گھٹتا اور کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ کے قدموں تلے آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کے دوسری جانب منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ظہر کی اذان کے وقت یہ سایہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے تو اس وقت نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ یعنی عصر کے وقت تک فرض نماز بھی پڑھو اور نفل بھی۔ نماز پڑھنے کے لیے یہ وقت کھلا ہے اور اس میں آپ جتنی چاہیں نفل نماز پڑھیں۔ اس میں کوئی کراہت نہیں تاہم جب آپ عصر پڑھ لیں تو اس کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک نفل نماز نہ پڑھیں۔ پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل ایک دفعہ پھر سے وہ وقت آجاتا ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے جیسا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت تھا۔ یہاں حرمت کی علت یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز عصر کو جان بوجھ کر مغرب سے کچھ دیر پہلے تک موخر کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی سورج پرست کفار کے ساتھ مشابہت ہو گی اور مسلمان ایسا کرنے یعنی نماز عصر کو اس وقت تک موخر کرنے کی صورت میں گویا کفار کی تقلید کرے گا۔ نبی ﷺ نے اسے منافقین کی نماز کا نام دیا ہے۔ کیونکہ منافق ہی ایسا کرتا ہے کہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوجاتا ہے تو جلدی جلدی ٹھونگ مار کر چار رکعت پڑھ لیتا ہے اور اس میں بہت کم اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کفار اور منافقین کی مشابہت سے بچیں اور نماز کو جان بوجھ کر سورج کے زرد پڑ جانے تک موخر کرنے سے پرہیز کریں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے،تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ یعنی جب انسان وضو کرتا ہے تو پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ یعنی انہیں یہ بہت زیادہ لگا کہ آدمی کو ایک ہی جگہ پر اتنا کچھ دے دیا جائے کہ جب وہ وضو کرے تو اس کے ساتھ اس کے سارے گناہ جھڑ جائیں اور پھر نماز پڑھ کر جب وہ فارغ ہو تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ اچھی طرح سے یاد کرو کہ کہیں نبیﷺ کی فرمائی ہوئی کوئی بات تم بھول نہ گئے ہو۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ جواب دیا کہ: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبیﷺ کے صحابہ آپﷺ پر یا اپنے رب سبحانہ وتعالی پر کوئی جھوٹی بات کہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نہ ہی مجھے اس بات کی کوئی ضرورت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ،حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ یعنی آپﷺ نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ سات دفعہ فرمائی۔ عربوں کے ہاں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے اور شاید نبیﷺ نے اس سے بھی زیادہ دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

تشریح: العربية

يخبرنا عمرو بن عبسة السلمي رضي الله عنه كيف كان حاله في الجاهلية، وكيف هداه الله إلى الإسلام. فكان -وهو في الجاهلية- عنده نور في قلبه يبين له أن هؤلاء الناس على باطل وعلى شرك وضلالة، ولم يكن يعتقد ما يعتقدون ثم إنه سمع أن شخصا في مكة خرج في هذا الزمن يخبر أخبارًا. فاستقل راحلته رضي الله عنه وقدم على النبي صلى الله عليه وسلم ، فوجده متخفيا في دعوته خشية الأذى من كفار قريش. قال عمرو بن عبسة: (فتلطفت حتى دخلت عليه بمكة فقلت: ما أنت؟ قال: أنا نبي، قال: قلت: وما نبي؟ قال: أرسلني الله، قال: قلت: وبأي شيء أرسلك؟ قال: أرسلني بصلة الأرحام، وكسر الأوثان، وأن يوحد الله ولا يشرك به شيئا). هنا دعا إلى الله عز وجل، وبين محاسن هذا الدين العظيم، وأهم شيء هو توحيد الله عز وجل، ومكارم الأخلاق، فذكر له صلى الله عليه وسلم ما يعرفه الناس بعقولهم من أن هذه الأصنام باطلة، ولذلك هذا الرجل قبل أن يدخل في الإسلام كان يعرف أن هذا الذي عليه المشركون من عبادة باطل، فهو يبحث عن الحق رضي الله تبارك وتعالى عنه، فلما ذهب إلى النبي صلى الله عليه وسلم ذكر له أن الله أرسله بذلك قال: (أرسلني بصلة الأرحام) فهذه مكارم الأخلاق؛ لأن أهل مكة كانوا يشيعون على النبي صلى الله عليه وسلم أنه جاء بقطع الأرحام، فكذبهم النبي صلى الله عليه وسلم، وأنه إنما جاء بصلة الأرحام لا بقطعها. ( وكسر الأوثان ) كسر ما يعبد من دون الله سبحانه تبارك وتعالى، ( وأن يوحد الله ولا يشرك به شيئا ) ، قال: قلت: " فمن معك على هذا؟ " أي: من دخل في هذا الدين معك ؟ قال: ( حر وعبد )، الحر: أبو بكر رضي الله عنه، والعبد: بلال رضي الله عنه. (إني متبعك، قال: إنك لن تستطيع ذلك يومك هذا) وإنما المعنى: أنه إذا اتبعه وترك قومه ليكون مع النبي صلى الله عليه وسلم في مكة فإن النبي صلى الله عليه وسلم لا يستطيع أن يدفع عنه هؤلاء الكفار، فقال له: امكث في قومك مسلما حتى يظهر هذا الدين فتأتي وتكون معنا، فهذا من رأفته ورحمته وشفقته صلى الله عليه وسلم، فإن هذا الرجل ضعيف، فقال صلى الله عليه وسلم للرجل: ( إنك لن تستطيع ذلك يومك هذا، ألا ترى حالي وحال الناس؟) يعني: الناس كثرة وهم يؤذونني، ولا أقدر عليهم، فكيف أدفع عنك؟! (فقال: ولكن ارجع إلى أهلك، فإذا سمعت بي قد ظهرت فأتني). والمعنى : استمرّ على إسلامك ، حتى تعلم بأني قد ظهرت، فأتني. قال: ( فذهبت إلى أهلي وقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وكنت في أهلي، فجعلت أتخبر الأخبار) لأن الإسلام دخل في قلب الرجل، يقول: ( وأسأل الناس حين قدم المدينة، حتى قدم نفر من أهلي من المدينة، فقلت: ما فعل هذا الرجل الذي قدم المدينة؟ ) وكأنه كان يخفي إسلامه، ولم يظهره خوفا من قومه، ( قال: فقالوا: الناس إليه سراعًا، وقد أراد قومه قتله فلم يستطيعوا ذلك، قال: فقدمت المدينة، فدخلت عليه فقلت: يا رسول الله! أتعرفني؟ قال: نعم أنت الذي لقيتني بمكة ) ( قال: فقلت: يا رسول الله! أخبرني عما علمك الله وأجهله )، فهو الآن يسأل النبي صلى الله عليه وسلم: ما هي أحكام الإسلام التي نزلت عليك؟ علمني مما علمك الله وأجهله، أخبرني عن الصلاة؟، فقال: ( صل صلاة الصبح ) أي: في وقتها، (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس) والمعنى: صلاة الصبح ليس هناك صلاة بعدها، فاقْصُر عن الصلاة حتى تطلع الشمس، وهل عندما تطلع الشمس يصلي نافلة ؟ يقول له صلى الله عليه وسلم: ( ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى ترتفع الشمس قيد رمح ) يعني: في نظر الناظر إليها، (فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان)، وقت طلوع الشمس هذا هو وقت يسجد الكفار فيه للشمس، فلا يجوز للمسلم أن يؤخر الفرض إلى هذا الوقت باختياره، ولا يجوز له أن يصلي النافلة وقت طلوع الشمس حتى ترتفع، وتجد في التقويم ( وقت الشروق ) فهذا الوقت المقصود. قال صلى الله عليه وسلم: ( فإنها تطلع حين تطلع بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار ) فنهانا أن نتشبه بهم. قال: (ثم صل فإن الصلاة مشهودة محضورة)، أي : تحضرها ملائكة النهار لتكتبها وتشهد بها لمن صلاها فهي بمعنى رواية مشهودة مكتوبة. قال: ( حتى يستقل الظل بالرمح، ثم اقْصُرْ عن الصلاة ) أي: عند الزوال، وذلك عندما تكون الشمس في كبد السماء فوق رأس الإنسان، ويكون الظل كله تحت قدميه فيقول له: لا تصل في هذا الوقت، وهو وقت يسير يقدر بركعتين تقريبا، فهذا الوقت لا يجوز له أن يصلي فيه؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ( فإنه حينئذ تسجر جهنم ) ، فهذا هو الوقت الذي تحرم فيه الصلاة، فالذي يدخل ينتظر حتى يؤذن لصلاة الظهر. قال: (فإذا أقبل الفيء) أي: الظل، كان الظل يتقلص ويتقلص حين صار تحت قدميك، وابتدأ ينتقل بعد ذلك إلى الناحية الأخرى منك، فيكون الظل عند وقت أذان الظهر قد بدأ يتحول من المغرب إلى المشرق. قال: (فإذا أقبل الفيء فصل، فإن الصلاة مشهودة محضورة حتى تصلي العصر) أي: فصل الفريضة والنافلة حتى وقت العصر فهو وقت مفتوح، فصل فيه ما شئت من نوافل، وليس هناك كراهة. قال صلى الله عليه وسلم: (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس) أي: فإذا صليت العصر فلا تصل نافلة حتى تغرب الشمس. (ثم اقْصُرْ عن الصلاة حتى تغرب الشمس) فقبيل غروب الشمس يرجع وقت التحريم مرة أخرى مثل وقت طلوع الشمس، والعلة هنا أنها تغرب بين قرني شيطان، فلا يجوز للمسلم أن يؤخر صلاة العصر إلى قبيل الغروب اختيارا؛ لأنه يتشبه بعباد الشمس من الكفار، والمسلم كأنه بفعله هذا يقلد هؤلاء الكفار فيؤخر صلاة العصر إلى هذا الوقت، وسماها النبي صلى الله عليه وسلم صلاة المنافقين؛ لأن المنافق يرقب الشمس حتى إذا اصفرت قام فنقرها أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا، فاحذر أن تتشبه بالكفار أو تتشبه بالمنافقين وتؤخر صلاة العصر اختيارا إلى وقت اصفرار الشمس. وقال صلى الله عليه وسلم: ( فإنها تغرب بين قرني شيطان، وحينئذ يسجد لها الكفار ). قال عمرو فقلت: ( يا نبي الله! فالوضوء حدثني عنه؟ قال صلى الله عليه وسلم: ما منكم رجل يقرب وضوءه فيتمضمض ويستنشق فينتثر إلا خرت خطايا وجهه وفيه وخياشيمه) أي أن الإنسان عندما يتوضأ تتساقط الذنوب مع آخر قطر الماء، فعندما يغسل وجهه، فإن ذنوب الفم والأنف والوجه والعينين تنزل كلها مع الماء. ثم إن عمرو بن عبسة رضي الله عنه حدث بهذا الحديث أبا أمامة رضي الله عنه فقال له أبو أمامة: ( يا عمرو بن عبسة انظر ما تقول! في مقام واحد يُعطى هذا الرجل؟!). يعني: كأنه استكثر أن كل هذا يُعطاه العبد في مقام واحد، أنه إذا توضأ هذا الوضوء خرت الخطايا كلها منه، ثم يدخل في الصلاة فيخرج منها كيوم ولدته أمه، ليس عليه ذنب، يقول له: تذكر جيدا أن تكون قد نسيت شيئا مما ذكره النبي صلى الله عليه وسلم. فكان جواب عمرو رضي الله عنه أنه قال: ( يا أبا أمامة! لقد كبرت سني، ورق عظمي، واقترب أجلي، ومالي حاجة أن أكذب على الله تعالى )، وحاشا لأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن يكذبوا على النبي صلى الله عليه وسلم أو على ربهم سبحانه. قال: ( ولا على رسول الله صلى الله عليه وسلم لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا حتى عد سبع مرات ما حدثت بهذا أبدا ). يعني: هذا الحديث لم يقله النبي صلى الله عليه وسلم مرة واحدة، بل قاله سبع مرات، والعدد (سبعة) يذكره العرب بمعنى: الكثرة، ولعله قالها أكثر من ذلك، قال: ( ولكني سمعته أكثر من ذلك ).

  • الأُمُّة التي تنحرف عن منهج الله وتتبع خطوات الشيطان ليست على شيء؛ لأنها تتردى في مهاوي الضلالة ، ويشهد لهذا المعنى قوله تعالى : (قل يا أهل الكتاب لستم على شيء حتى تقيموا التوراة والإنجيل وما أنزل إليكم من ربكم) (المائدة: 68).
  • الجاهليون حَرّفوا دين إبراهيم وإسماعيل ولكن بقي نفر كانوا يعتقدون ضلال قومهم، واتبعوا بقايا دين إبراهيم وإسماعيل وهم الحنفاء أمثال زيد بن عمرو بن نفيل.
  • حرص عمرو بن عبسة في البحث عن الدين الصحيح.
  • فيه أن الدعوة في أول الإسلام كانت سرًا .
  • إذا خشي الدُّعَاة الفتنة من قبل حِزب الشيطان وجند الطاغوت وكانوا على ضعف جاز لهم أن يسروا بدعوتهم، ولذلك أرشد رسول الله صلى الله عليه وسلم عمرو بن عبسة رضي الله عنه أن يعود إلى أهله بإسلامه ليقيم فيهم خشية من أذى قريش.
  • حرص كفار قريش على قتل النبي صلى الله عليه وسلم.
  • جرأة كفار قريش على النبي صلى الله عليه وسلم.
  • فيه صبر النبي صلى الله عليه وسلم على جرأة قومه عليه. ومن صبر ظَفَر.
  • فيه أنه يجب على الداعي أن لا يكل ولا يمل من دعوة الناس ولو لم يتبعوه.
  • حسن صنيع عمرو بن عبسة رضي الله عنه، حين أراد الدخول على النبي صلى الله عليه وسلم.
  • فيه معجزة للنبي هي إعلامه بأنه سيظهر، فكان كما أخبر.
  • سرعة استجابة عمرو بن سلمة رضي الله عنه للحق.
  • فضيلة عمرو بن عبسة وأنه من السابقين الأولين.
  • بيان للشدَّة التي مر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم من قومه ليصدوه عن دين الله.
  • استحباب سؤال أهل العلم عن أحكام الدين.
  • بيان ما يرسل الله به رسله وهو توحيد الملة بأن يُعبد الله وحده ولا يشرك به شيئاً ويحطم الطاغوت ، وتوحيد الكلمة بأن توصل الأرحام ، ولن يكون توحيد الكلمة إلا بتوحيد الملة.
  • وجوب تحطيم الأوثان والصُلبان وطَمس الصور.
  • بيان لفضل أبي بكر الصديق وبلال، وأنهما من السابقين الأولين.
  • استحباب متابعة أخبار أهل العلم والسؤال عن أحوالهم والاطمئنان عليهم.
  • استحباب المسارعة إلى أهل الإسلام عند زوال المحن والابتلاء ، ولذلك لا يجوز تكثير سواد أهل الكفر بالمقام بين ظهرانيهم.
  • قويت شوكت الإسلام، حين استقر النبي صلى الله عليه وسلم في المدينة.
  • استجابة الناس لدعوة النبي صلى الله عليه وسلم، ودخولهم في دين الله سراعا.
  • قُوَّة ذاكرة النبي _صلى الله عليه وسلم _ ، فإنه تَذَكَّر عمرو بن عَبَسة بعد مدة طويلة.
  • حرص عمرو بن عَبَسة على تلقي العلم الشرعي من أصله.
  • بيان أهمية الصلاة وعظم شأنها.
  • فضل ركعتي الوضوء ، إذا لم يحدث نفسه بشيء ، إلا أن الكبائر لا تكفرها إلا التوبة الصادقة.
  • بيان للأوقات التي تكره فيها الصلاة وهي حين شروق الشمس ، ووقت الزوال، وحين تغرب الشمس.
  • تحريم التشبه بالكفار ولو لم يقصد المتشبه ذلك، فإن الذي يصلي حين تطلع الشمس وحين تغرب لا يقصد التشبه بالكفار، ومع ذلك فالصلاة حينئذ منهي عنها.
  • بيان لفضل الوضوء وأنه مكفر للذنوب والخطايا، وهذا لمن توضأ كما أُمر.
  • جواز التثبت من المُحَدِّث من غير تهمة.
  • تأكيد عمرو بن عَبَسَة رضي الله عنه سماعه لهذا الحديث من النبي صلى الله عليه وسلم عدة مرات.
  • حرص عمرو بن عَبَسَة على نشر ما تعلمه من النبي صلى الله عليه وسلم.
  • خفاء بعض الأحكام والفضائل على بعض الصحابة.
  • كلما طال عُمْر المسلم واشتعل رأسه شيباً وَرَقَّ عظمه ، فإنه ينبغي أن يزداد إحساناً ورجاءً وعملاً صالحاً.
  • أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم عدول ثقات.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید