حدیث

بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه البخاري في الأدب المفرد وأحمد والبيهقي

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ کو عمدہ اور اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ آپ پہلے آنے والے تمام رسولوں کے اختتام اور عرب کے اخلاق حسنہ کی تکمیل کرنے والی کی حیثیت سے بھیجے گئے تھے۔ کیوں کہ عرب خیر سے محبت اور شر سے نفرت کرتے تھے۔ وہ با مروت، دریا دل اور خود دار تھے۔ ایسے میں آپ ان کے اخلاق میں پائی جانے والی کمیوں، جیسے حسب نسب پر فخر کرنا اور تکبر کرنا اور مالی اعتبار سے کم تر لوگوں کو حقیر جاننا وغیرہ، کو دور کرکے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔

فوائد

  • اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے اور بدخلقی سے دور رہنے کی ترغیب۔
  • اسلام میں اخلاق حسنہ کی بڑی اہمیت ہے اور یہ اس کی ترجیحات میں داخل ہیں۔
  • دور جاہلیت کے لوگوں کے اندر اخلاق حسنہ کے کچھ بچے کھچے اوصاف، جیسے سخاوت اور شجاعت وغیرہ موجود تھيں، چنانچہ اسلام ان کی تکمیل کے لیے آیا۔
تشریح: العربية

أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أنه إنما أرسله الله عز وجل ليكمل فضائل ومحاسن الأخلاق؛ حيث بُعث النبي صلى الله عليه وسلم تتمّة لما قبله من الرُّسل، ومكمّلًا لأخلاق العرب الحسنة، فكانوا يحبون الخير ويَمْقتون الشر، أهل مروءة وكرم وشهامة؛ فبُعث النبي صلى الله عليه وسلم لإكمال النقائص التي في أخلاقهم، كتفاخرهم بالأنساب، والتكبر واحتقار الفقير وغير ذلك.

  • الحث على مكارم الأخلاق، والنهي عن ضدها.
  • بيان أهمية الأخلاق الحسنة في شريعة الإسلام وأنها من أولوياته.
  • أهل الجاهلية كان عندهم بقايا من الأخلاق الحسنة، ومنها الكرم والشجاعة وغير ذلك فجاء الإسلام ليكملها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید