ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ»
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔“
تشریح
نبی ﷺ نے خبر دی کہ جو شخص لوگوں کے اس احسان اور بھلائی پر ان کا شکر ادا نہیں کرتا جو انہوں نے اس کے ساتھ کیا، وہ عموماً اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ یہ اس لیے ہے کہ ان دونوں باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ جس کی طبیعت اور عادت ہی لوگوں کی نعمت کی ناشکری ہو، اس کی عادت اللہ کی نعمت کی ناشکری اور اس پر شکر ادا کرنے میں کوتاہی کرنا بھی بن جائے گی۔
فوائد
- لوگوں کے احسان کا شکر ادا کرنے کی اہمیت۔
- حقیقت میں نعمت عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، مخلوق تو محض اسباب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے مسخر فرما دیتا ہے، اسی لیے لوگوں کا شکر ادا کرنا اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرنا ہے۔
- لوگوں کے احسان پر ان کا شکر ادا کرنا کمالِ خُلق کی دلیل ہے۔
تشریح: العربية
أخبر النبي صلى الله عليه وسلم أنه لا يشكر الله عادةً من لا يشكر الناس على المعروف والجميل الذي صنعوه له، وذلك لاتصال أحد الأمرين بالآخر، حيث أن من طبعه وعادته كفران نعمة الناس وترك شكرهم، سيكون من عادته كفر نعمة الله والتقصير في شكره عليها.
- أهمية شكر الناس على المعروف.
- المنعم حقيقة هو الله تعالى، والخلق أسباب يسخِّرها الله تعالى لمن يشاء، ولذلك فإنَّ شكر الناس من شكر الله تعالى.
- شكر الناس على معروفهم دليل على كمال الخلق.