ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ جُرْثُومِ بن نَاشِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: «إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا».
ترجمہ
ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو، کچھ حدیں مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم پر شفقت کی بنا پر، نسیان کے شکار ہوئے بنا، خاموشی اختیار کی ہے، چنانچہ ان کے متعلق بحث وکرید نہ کرو۔"
تشریح
اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے کچھ چیزیں واجب اور کچھ چیزیں فرض کی ہیں۔ لہذا ان کی پابندی کرو اور انھیں چھوڑنے یا ان کے بارے میں سستی کرنے سے بچو۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ چیزوں سے روکنے کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، لہذا ان شرعی حدود میں کوئی اضافہ مت کرو۔ اس نے کچھ چیزیں حرام کی ہیں۔ لہذا تم ان میں ملوث ہونے اور ان کے قریب جانے سے بچو۔ ان کے بعد باقی ماندہ چیزوں کو اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ایسے ہی چھوڑ رکھا ہے اور ان کے بارے میں خاموشی برتی ہے، چنانچہ یہ چیزیں اپنی اصلیت میں مباح ہی رہیں گی۔ لہذا ان کے بارے میں بحث وجستجو نہ کرو۔
فوائد
- یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت سازی کا کام اللہ کا ہے۔
- حدیث میں شریعت کے تمام اصول، یعنی جو کام جائز ہیں اور جو منع ہیں، دونوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ شریعت میں ہر حکم یا تو قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے یا اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ جن امور کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ان میں سے یا تو کسی کام کے کرنے کا حکم ہے جس کا کرنا یا تو واجب (ضروری) ہے، یا مستحب (پسندیدہ) ہے۔ یا پھر کام سے منع کیا گیا ہے، جس کا کرنا یا تو حرام (سختی سے منع) ہے، یا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔
- اللہ نے جس چیز کے بارے میں خاموشی برتی ہے، نہ اسے فرض کیا ہے، نہ اس پر حد متعین کی ہے اور نہ اس سے منع کیا ہے، وہ حلال ہے۔
- اللہ کے نبی ﷺ کا بہترین انداز بیان کہ اس حدیث میں ایک واضح تقسیم پیش کی۔
- فرائض کی پابندی واجب ہے۔
- اللہ کی حدود کو تجاوز کرنا جائز نہيں ہے۔
تشریح: العربية
يخبر النبي صلى الله عليه وسلم أن الله أوجب أشياء وفرض فرائض فالتزموها ولا تفرطوا فيها بالترك أو التهاون فيها، وجعل لكم حواجز وزواجر مقدرةً تحجزكم وتزجركم عما لا يرضاه، فلا تزيدوا عليها عمَّا أمر به الشرع، وحرم محرمات فلا تتناولوها ولا تقربوها، وما عدا ذلك تركها وسكت عنها رحمة بعباده، فتبقى على أصل إباحتها فلا تبحثوا عنها.
- الحديث دليل على أن الله هو المشرع فالأمر بيده سبحانه.
- تضمن الحديث قواعد الشرع حكمًا وإباحةً؛ إذ الحكم الشرعي إمَّا مسكوتٌ عنه أو متكلَّم به، وهو إما: مأمورٌ به وجوبًا أو ندبًا، أو منهيٌّ عنه تحريمًا أو كراهةً، أو مباحٌ.
- أن ما سكت الله عنه فلم يفرضه، ولم يحده، ولم ينه عنه فهو الحلال.
- حسن بيان النبي صلى الله عليه وسلم حيث ساق الحديث بهذا التقسيم الواضح البين .
- وجوب المحافظة على فرائض الله تعالى.
- تحريم التعدي على حدود الله تعالى.