حدیث

”بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ المُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ المُرْسَلِينَ، فَقَالَ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا}، وَقَالَ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ، يُطِيلُ السَّفَرَ، أَشْعَثَ، أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِيَ بِالحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَذلك».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالی پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو۔) پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، پراگندہ بال ہے، جسم غبار آلود ہے، اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے: ”اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی؟“

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بلاشبہ اللہ پاک ہے، مقدس ہے، کمیوں اور عیوب سے منزہ ہے اور کمالات سے متصف ہے۔ وہ انہی اعمال، اقوال اور اعتقادات کو قبول کرتا ہے، جو پاک ہوں اور جنھیں صرف اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ اللہ کا تقرب صرف اسی طرح کی عبادتوں کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اعمال کی پاکیزگی کا ایک اہم ترین ذریعہ حلال کھانا کھانا ہے۔ حلال کھانا کھانے سے انسان کا عمل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ نے رسولوں کو حلال روزی کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح اہل ایمان کو بھی دیا ہے۔ ارشاد باری ہے : ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا“ [سورہ مومنون : 51] (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ“ [سورہ بقرہ : 172] (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انھیں کھاؤ۔) پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام غذا کھانے سے خبردار فرما دیا۔ کیوں کہ حرام غذا عمل کو فاسد کر دیتی ہے اور اسے اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے نہیں دیتی۔ چاہے قبول ہونے کے ظاہری اسباب جتنے بھی پائے جائیں۔ مثلا : 1- کسی نیکی کے کام، جیسے حج، جہاد اور صلہ رحمی وغیرہ کے لیے لمبا سفر کرنا۔ 2- انسان کا پریشان حال ہونا۔ جیسے اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور دھول مٹی لگنے کی وجہ سے اس کے جسم اور کپڑے کا رنگ بدلا ہوا ہو۔ اور یہ سب کچھ اس بات کى دلیل ہے کہ ایسا شخص مضطر ہے۔ 3- دعا کے لیے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھانا۔ 4- اللہ کے اسما کو وسیلہ بنانا اور الحاح و زاری کے ساتھ دعا کرنا۔ مثلا یا رب یا رب کہنا۔ قبولیت دعا کے مذکورہ اسباب پائے جانے کے باوجود انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ کیوں کہ اس کا کھانا حرام کا، اس کا پینا حرام کا، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی ہے۔ لہذا اس کی دعا قبول ہو ہی نہیں سکتی۔

فوائد

  • اللہ عز و جل اپنی ذات، صفات، افعال اور احکام میں کامل ہے۔
  • خالص اللہ کی رضاجوئی کی خاطر اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے کا حکم۔
  • ایسا اسلوب اختیار کرنا جس سے عمل کی رغبت اور حوصلہ پیدا ہو. اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان ہے: "اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا ہے، جس کا رسولوں کو حکم دیا ہے"۔ کیوں کہ جب مومن کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ جو کام کرنے جا رہا ہے، اس کا حکم رسولوں کو بھی دیا گیا تھا، تو اس کے اندر رسولوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس کام کو کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
  • دعا کی قبولیت کی راہ میں حائل ہونے والی چيزوں میں سے ایک چیز حرام غذا کھانا ہے۔
  • اس حدیث میں قبولیت دعا کا سبب بننے والی پانچ چیزوں کا ذکر ہے : 1- طویل سفر۔ کیوں کہ اس سے انکساری پیدا ہوتی ہے، جو دعا کی قبولیت کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ 2- اضطراری حالت۔ 3- ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھانا۔ 4۔ اللہ کی ربوبیت کا بار بار ذکر کرتے ہوئے الحاح وزاری سے کام لینا۔ یہ بھی دعا کی قبولیت کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ 5- پاکیزہ چيزیں کھانا اور پینا۔
  • حلال غذا کھانا عمل صالح میں ممد و مددگار ہوتا ہے۔
  • قاضی کہتے ہیں: طیب خبیث کی ضد ہے۔ طیب لفظ جب اللہ کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمام کمیوں سے منزہ اور تمام برائیوں سے پاک ہے۔ جب کسی بندے کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گندے اخلاق اور برے اعمال سے دور اور اچھے اخلاق واعمال کا حامل ہے۔ جب اموال کے وصف کے طور پر آئے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حلال اور عمدہ ہیں۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ الله طيب قُدُّوس مُنَزَّهٌ عن النقائص والعيوب ومُتَّصِف بالكَمَالات، ولا يقبل من الأعمال والأقوال والاعتقادات إلا ما كان طيبًا، وهو الخالص لله، الموافق لهدي النبي صلى الله عليه وسلم، ولا ينبغي أن يتقرب إلى الله إلا بذلك، ومن أعظم ما يَحصُل به طِيْبة الأعمال للمؤمن طِيْبُ مَطعَمِه، وأن يكون من حلال، فبذلك يَزكُو عملُه، ولذا أمر الله المؤمنين بالذي أمر به المرسلين من أكل الحلال وعمل الصالحات، فقال: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا، إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} وقال: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ}. ثم حَذَّرَ صلى الله عليه وسلم من أكل الحرام الذي يُفسِد العمل ويَمنع قبولَه مهما بَذل من أسباب القبول الظاهرة؛ منها: أولًا: إطالة السفر في وجوه الطاعات كحج وجهاد وصلة رحم وغير ذلك. ثانيًا: مُتفرِّق الشعر لعدم تمشيطه، مُتغيِّر لونه ولون ثيابه من التراب، فهو مضطر. ثالثًا: يرفع يديه إلى السماء بالدعاء. رابعًا: يتوسل إلى الله بأسمائه ويُلِحُّ في ذلك: يا رب يا رب! ومع هذه الأسباب لإجابة الدعاء لم يسمع له؛ وذلك لأن مَطعومَه ومشروبَه وملبوسَه حرام، وغذي بالحرام، فبعيد أن يستجاب لمن هذه صفته، وكيف يستجاب له؟!

  • كمال الله عزّ وجل في ذاته، وصفاته، وأفعاله، وأحكامه.
  • الأمر بإخلاص العمل لله عز وجل، والمتابعة للنبي صلى الله عليه وسلم.
  • استعمال ما يُشجِّع على العمل، حيث قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إِنَّ الله أَمَرَ المُؤمنينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ المُرسَلِيْنَ"، فإذا علم المؤمن أن هذا من مأمورات المرسلين فإنه يتقوَّى ويتشجّع على الامتثال.
  • من موانع استجابة الدعاء أكل الحرام.
  • من أسباب إجابة الدعاء خمسة أشياء: أحدها: إطالة السفر لما فيه من الانكسار الذي هو من أعظم أسباب الإجابة، الثاني: حالة الإضطرار، الثالث: مَدُّ اليدين إلى السماء، الرابع: الإلحاح على الله بتكرير ذكر ربوبيته، وهو من أعظم ما يُطلَب به إجابة الدعاء، الخامس: إطابة المأكل والمشرب.
  • أكل الحلال الطيِّب من الأسباب المُعينة للعمل الصالح.
  • قال القاضي: الطيب ضد الخبيث، فإذا وصف به تعالى أريد به أنه مُنزَّه عن النقائص مُقدَّس عن الآفات، وإذا وُصِف به العبد مطلقًا أريد به أنه المُتعرِّي عن رذائل الأخلاق وقبائح الأعمال والمتحلي بأضداد ذلك، وإذا وُصف به الأموال أريد به كونه حلالًا من خيار الأموال.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید