حدیث

جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه الترمذي والنسائي

عربی متن

عَنْ أَبِي مُـحَمَّدٍ الحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَيْحَانَتِهِ-، قَالَ: حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْ مَا يَرِيبُك إلَى مَا لَا يَرِيبُكَ».

ترجمہ

اللہ کے رسول ﷺ کے نواسے اور آپ کے عزیز ابو محمد حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ بات یاد کی ہے: "جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے ایسے اقوال واعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک وشبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔

فوائد

  • مسلمان پر لازم ہے کہ اپنے تمام معاملات کی بنیاد یقین پر رکھے اور بصیرت وآگہی کے ساتھ دین پر عمل کرے۔
  • مشتبہ چيزوں میں پڑنے کی ممانعت۔
  • اگر آپ اطمینان اور آرام چاہتے ہیں تو مشکوک چیزوں کو ترک کر دیں اور ان سے دامن کش ہوجائیں۔
  • اللہ تعالی اپنے بندوں پر رحیم ومہربان ہے، بایں طور کہ اس نے انہیں ایسے کاموں کا حکم دیا ہے جن سے ذہن ودل کا سکون حاصل ہوتا ہے اور ایسے کاموں سے منع فرمایا ہے جن سے بے قراری اور حیرانگی پیدا ہوتی ہے۔
تشریح: العربية

أَمَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بِتَرْك ما تَشُكُّ فيه مِن الأقوال والأعمال أنه مَنهيٌّ عنه أو لا، أهو حرام أو حلال، إلى ما لا شَكَّ فيه مما تَيَقَّنت حُسْنَه وحِلَّه.

  • على المسلم بناء أموره على اليقين وترك المشكوك فيه، وأن يكون في دينه على بصيرة.
  • النهي عن الوقوع في الشبهات.
  • إذا أردتَ الطمأنينةَ والاستراحة فاترك المشكوك فيه واطرحه جانبًا.
  • رحمة الله بعباده إذ أمرَهم بما فيه راحة النفس والبال ونهاهم عمّا فيه قَلَقٌ وحَيْرة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید