حدیث

نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسناسے ابن ماجہ اور دار قطنی وغیرہ نے مسنداً روایت کیا ہے۔

عربی متن

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ الخُدْرِيّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ».

ترجمہ

ابو سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "نہ (ابتداءً) کسی کو نقصان پہنچانا جائز ہے اور نہ بدلے کے طور پر نقصان پہنچانا جائز ہے۔"

تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ خود اپنے نفس کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کا ضرر پہنچانے سے بچنا ضروری ہے۔ نہ تو خود کو اذیت دینا جائز ہے اور نہ کسی اور کو اذیت دینا جائز ہے۔ دونوں ہی باتیں ناجائز ہيں۔ کسی کے لیے بھی ضرر کے مقابلے میں ضرر پہنچانا جائز نہيں ہے۔ کیوں کہ ضرر کا ازالہ ضرر کے ذریعے قصاص کے علاوہ کہیں اور جائز نہيں ہے۔ یہ بھی اس وقت جائز ہے جب ظلم وتعدی نہ ہو۔

فوائد

  • جتنا نقصان پہنچایا گیا ہو اس سے زیادہ بدلہ لینا جائ‏ز نہيں ہے۔
  • اللہ نے اپنے بندوں کو کسی ایسے کام کا حکم نہيں دیا ہے، جو ان کے لیے نقصان دہ ہو۔
  • یہ حدیث ضرر رسانی کی حرمت کے سلسلے میں ایک قاعدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ضرر رسانی قول کے ذریعے ہو، فعل کے ذریعے ہو یا ترک کے ذریعے۔
  • شریعت کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ ضرر کو زائل کیا جائے گا۔ لہذا شریعت ضرر کو قبول نہيں کرتی، بلکہ اسے رد کرتی ہے۔
تشریح: العربية

بَيَّنَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه يَجِبُ دفعُ الضررِ بمختلف أنواعه ومظاهره عن النفس وعن الآخرين، فلا يَحِلُّ لأحدٍ أن يُؤذيَ نفسَه أو غيرَه على حد سواء. ولا يَحلُّ له أن يقابِلَ الضررَ بالضرر؛ لأن الضررَ لا يُزال بالضرر إلا على سبيل القصاص دون تعدٍّ.

  • النهي عن المجازاة بأكثر من المِثْل.
  • لم يأمر اللهُ عبادَه بشيء يضرُّهم.
  • الحديث قاعدة في تحريم الضرر، والضرار بالقول أو بالفعل أو بالترك.
  • من قواعد الشريعة: أن "الضرر يُزال"، فالشريعة لا تُقِرُّ الضرر، وتنكر الإضرار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید