حدیث

تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحاسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهِ عَنْهُ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا، فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ؟ قَالَ: «لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ». وفي رواية: مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: آخِرُ مَا فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُلْتُ: أَيُّ الأَعْمَالِ خَيْرٌ وَأَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ».

ترجمہ

عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! امور اسلام تو بہت زیادہ ہیں۔ کوئی ایسا جامع عمل بتائیں، جسے ہم لازم پکڑیں! آپ ﷺ نے فرمایا: "تمھاری زبان ہر وقت اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے"۔ معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت میں ہے؛ وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ سے جدا ہوتے وقت میں نے آخری بات یہ پوچھی کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور اللہ سے سب سے قریب کرنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "تمھاری موت اس حالت میں ہو کہ تمھاری زبان اللہ عز و جل کے ذکر سے تر رہے۔"

تشریح

ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حضور شکایت کی کہ اسے نفل عبادتیں اتنی زیادہ لگتی ہیں کہ اپنے ضعف کی وجہ سے انھیں انجام دے نہيں سکتا۔ پھر گزارش کی کہ آپ اسے کوئی چھوٹا سا عمل بتا دیں، جس سے بہت سارے ثواب حاصل ہو جائيں اور جسے وہ مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی رہ نمائی اس جانب کی کہ ہمیشہ اس کی زبان اللہ کے ذکر سے تر اور ہر وقت اور ہر حال میں اللہ کے ذکر میں مشغول رہے۔ ذکر میں سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ اور دعا وغیرہ شامل ہيں۔

فوائد

  • اللہ کے ذکر پر مداومت برتنے کی فضیلت۔
  • اللہ کا ایک بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے خیر کے اسباب آسان فرما دیے ہیں۔
  • خیر و بھلائی اور نیکی کے کاموں میں بندے ایک دوسرے سے الگ الگ درجات کے حامل ہوا کرتے ہيں۔
  • کثرت سے اور حضور قلب کے ساتھ سبحان اللہ، الحمد للہ، لاالہ الا اللہ اور اللہ اکبر وغیرہ کہنا بہت سی نفلی عبادتوں کے برابر ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوال کرنے والوں کا خیال کرتے ہوئے ہر سائل کو وہی جواب دیتے، جو اس کے لیے مناسب ہو۔
تشریح: العربية

شَكَى رجلٌ إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم بأن نوافل العبادات قد كَثرت عليه حتى عجز عنها لضعفه، ثم سألَ النبيَّ صلى الله عليه وسلم أنْ يَدلَّه على عملٍ يسيرٍ مُسْتجلِبٍ لثواب كثير يتعلق به ويستمسك. فأرشده صلى الله عليه وسلم بأن يكون لسانه طَرِيًّا متحركًا من دوام ذكر الله سبحانه وتعالى في كل وقت وحال؛ من تسبيح وتحميد واستغفار ودعاء ونحو ذلك.

  • فضل المداومة على ذكر الله تعالى.
  • من عظيم فضل الله تيسير أسباب الأجر.
  • تفاضل العباد في نصيبهم من أبواب البر والخير.
  • كثرة ذكر الله باللسان تسبيحًا وتحميدًا وتهليلًا وتكبيرًا وغير ذلك مع مواطأة القلب يقوم مقام كثير من نوافل الطاعات.
  • مراعاته صلى الله عليه وسلم للسائلين بإجابة كلٍّ بما يناسبه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید