حدیث

جس اونٹ کی گردن میں بھی تانت کا ہار (گنڈا) یا ہار ہو اسے کاٹ دیا جائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عن أبي بَشير الأنصاري رضي الله عنه: أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا -وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ-: «لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ».

ترجمہ

ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ: وہ کسی سفر میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ اپنی آرام گاہوں میں تھے تو آپ ﷺ نے یہ اعلان کرنے کے لیے ایک قاصد بھیجا کہ: جس اونٹ کی گردن میں بھی تانت کا ہار (گنڈا) یا ہار ہو اسے کاٹ دیا جائے۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کسی سفر میں تھے اور لوگ اپنے سونے کی جگہوں میں، جہاں ان کو رات گزارنی تھی، موجود تھے۔ اسی درمیان آپ نے ایک شخص کو اس حکم کے ساتھ بھیجا کہ لوگ اپنے اونٹوں کے گلوں میں باندھی گئی چیزوں کو کاٹ دیں۔ چاہے وہ چیزیں کمان کی تانت کی شکل میں ہوں یا گھنٹی کی شکل میں ہوں یا جوتے وغیرہ کی شکل میں۔ ایسا اس لیے کہ لوگ یہ چیزیں نظر بد لگنے کے ڈر سے باندھا کرتے تھے، لہذا ان کو کاٹ دینے کا حکم دیا۔ کیوں کہ یہ چیزیں کچھ فائدہ نہيں دیتیں۔ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ اس میں اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔

فوائد

  • نفع کے حصول اور ضرر سے بچنے کے لیے کمان کے تانت اور قلائد وغیرہ کو باندھنا حرام ہے، کیوں کہ یہ شرک ہے۔
  • اونٹ کے گلے میں تانت کے علاوہ کسی اور چیز کا پٹہ اور ہار اگر زینت، جانور کو کھینچنے اور اسے باندھنے کے لیے لگایا جائے، تو اس میں کوئی حرج نہيں ہے۔
  • حسب استطاعت منکر کا انکار ضروری ہے۔
  • دل کا تعلق بس اللہ سے ہونا چاہیے۔ کسی اور سے نہيں۔
تشریح: العربية

كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره، والناسُ في مكان نومِهم الذي يَبِيْتُون فيه في رِحالِهم وخيامِهم، فأَرْسَلَ شخصًا إلى الناس يأمرهم بِقَطْع القَلَائد التي تُعَلَّق على البعير سواء كانت من الوَتَر -وَتَر القَوْس- أو من غيره كالجَرَس أو النعل، وذلك لأنهم كانوا يُقَلِّدونها حذرًا من العين، فأُمِرُوا بقطعها؛ لأنها لا تَرُدُّ عنهم شيئًا، وأنَّ النفعَ والضرَّ بيد الله وحده لا شريك له.

  • تحريم تعليق الأوتار والقلائد لجلب النفع أو دفع الضر؛ لأن ذلك من الشرك.
  • ربط القلادة من غير الوتر إذا كان للزينة أو لقيادة الدابة أو لربطها به فلا بأس به.
  • وجوب إنكار المنكر بحسب الاستطاعة.
  • وجوب تعلق القلب بالله وحده لا شريك له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید