حدیث

جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أحمد

عربی متن

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رضي الله عنه: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ، فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا؟ قَالَ: «إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً»، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا، فَبَايَعَهُ، وَقَالَ: «مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ».

ترجمہ

عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی، جن میں نو لوگوں سے آپ نے بیعت لی اور ایک شخص سے بیعت نہیں لی۔ لہذا انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے نو لوگوں سے بیعت لی اور اسے چھوڑ دیا؟ آپ نے جواب دیا : "اس نے تعویذ باندھ رکھا ہے۔" چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا اور اسے کاٹ دیا۔ تب جاکر آپ نے اس سے بیعت لی اور فرمایا : "جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی۔ کل دس لوگ تھے۔ نو لوگوں سے آپ نے اسلام اور تابع داری کی بیعت لی اور دسویں کو چھوڑ دیا۔ جب اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : اس کے جسم پر تعویذ بندھا ہوا ہے۔ تعویذ موتی وغیرہ کو کہتے ہیں، جن کو نظر بد یا نقصان سے بچنے کے لیے باندھا یا لٹکایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے تعویذ کی جگہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے بیعت لی اور تعویذ وغیرہ سے خبردار کرتے ہوئے اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جس نے تعویذ لٹکایا، تو بلا شبہ اس نے شرک کیا۔"

فوائد

  • جو غیر اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اس کے ساتھ اس کے ارادہ کے برعکس معاملہ کرے گا۔
  • یہ عقیدہ رکھنا کہ تعویذ لٹکانا اذیت اور نظر بد سے بچنے کا سبب ہے، شرک اصغر ہے۔ جب کہ ان کو بذات خود نافع ماننا شرک اکبر ہے۔
تشریح: العربية

قَدِمَ جماعةٌ إلى النبيّ صلى الله عليه وسلم، وكان عددُهم عشرة، فبايع تسعةً منهم على الإسلام والمتابعة، ولم يبايع العاشر، فلما سُئل عن سببِ ذلك قال عليه الصلاة والسلام: إنّ عليه تميمة، وهي ما يُربط أو يُعلَّق مِن الخَرَز وغيرِها لِدَفع العين أو الضرر. فأدخلَ الرجلُ يدَه لموضع التميمة وقَطَعَها وتَخلَّص منها، فبايعه النبي صلى الله عليه وسلم عند ذلك، وقال مُحَذِّرًا من التمائم ومُبَيِّنًا حكمَها: "مَن علَّقَ تَميمة فقد أشرك".

  • مَن اعتَمَدَ على غير الله عامَلَه الله بِنَقِيْضِ قَصْدِه.
  • اعتقاد أنَّ تَعليقَ التمائمِ سببٌ في دفع الأذى والعين شركٌ أصغر، أما إن اعتقد أنها تنفع بذاتها فهو شرك أكبر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید