حدیث

اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا، تو محمد (ﷺ) اس سے بری ہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن رويفع قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يا رُوَيْفِعُ، لعل الحياة ستطول بك فأخبر الناس أن من عَقَدَ لِحْيَتَهُ، أو تَقَلَّدَ وَتَرًا، أو اسْتَنْجَى برَجِيعِ دابة أو عَظْمٍ، فإن محمدًا بريءٌ منه".

ترجمہ

اے رویفع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ( ﷺ) اس سے بری ہیں“۔

تشریح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اس صحابی کی عمر لمبی ہو گی، یہاں تک کہ وہ ایسے لوگوں کو پائیں گے، جو داڑھیوں کے معاملے میں آپ ﷺ کے طرز عمل، یعنی انھیں بڑھانے اور ان کے احترام کی بجائے وہ عجمی و عیش پروردہ اور احمق لوگوں کی طرح ان کے ساتھ مذاق شروع کر دیں گے۔ یا پھر شرکیہ ذرائع کے استعمال کی وجہ وہ عقیدۂ توحید میں خلل انداز ہوں گے، بایں طور کہ کسی آفت کے دفعیہ کے لیے خود تانت کے ہار پہنیں گے یا پھر اپنے چوپایوں کو یہ پہنائیں گے۔ یا پھر ایسے امور کا ارتکاب کریں گے، جن سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ مثلا چوپایوں کے گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنا۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابی کو وصیت فرمائی کہ وہ امت تک یہ بات پہنچا دیں کہ ان کے نبی ﷺ اس شخص سے بری ہیں، جو یہ کام کرتا ہے۔

تشریح: العربية

يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أن هذا الصحابي سيطول عمرُه حتى يدرك أناساً يخالفون هديه -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في اللحى الذي هو توفيرُها وإكرامُها إلى العبث بها على وجهٍ يتشبهون فيه بالأعاجم أو بأهل الترف والميوعة. أو يُخلُّون بعقيدة التوحيد باستعمال الوسائل الشركية فيلبسون القلائد أو يُلبسونها دوابَّهم يستدفعون بها المحذور. أو يرتكبون ما نهى عنه نبيهم من الاستجمار بروث الدواب والعظام. فأوصى النبي -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صاحبه أن يبلغ الأمة أن نبيها يتبرأ ممن يفعل شيئًا من ذلك.

  • عَلَم من أعلام النبوة، فإن رويفعًا طالت حياته إلى سنة 56هـ.
  • وجوب إخبار الناس بما أُمِروا به ونُهوا عنه مما يجب فعله أو تركه.
  • مشروعية إكرام اللحية وإعفائها وتحريم العبث بها بحلق أو قص أو عقد أو تجعيد أو غير ذلك.
  • تحريم اتخاذ القلادة لدفع المحذور، وأنه شرك.
  • تحريم الاستنجاء بالروث والعظم.
  • أن هذه الجرائم المذكورة من الكبائر.
  • قبول خبر الواحد العدل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید