حدیث

عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلا جائے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قالَ: قالَ رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : "يُوشَكُ أنْ يكونَ خيرَ مالِ المسلمِ غَنَمٌ يَتَّبعُ بها شَعَفَ الجبالِ، ومواقعَ القطرِ يَفِرُّ بدينِهِ من الفتنِ".

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات (سرسبز جگہوں) کی طرف چلا جائے گا تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے“۔

تشریح

اس حدیث میں فتنوں کے دور میں عزلت نشینی کی فضیلت کا بیان ہے ماسوا اس کے کہ اس بندے میں فتنے کو دور کرنے کی طاقت ہو۔اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ فتنے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنا اس پر یا تو فرض عین ہو گا یا پھرحالات و امکانات کے لحاظ سے فرض کفایہ ہوگا۔ تاہم فتنے کے علاوہ دیگر دنوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ان میں انسان کے لیے عزلت نشینی اور لوگوں سے گھل مل کر رہنے میں سی کون سی صورت افضل ہے؟ زیادہ پسندیدہ قول یہی ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہے اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہیں ہو گا۔ "يفر بدينه من الفتن" یعنی اس اندیشے کے تحت بھاگ جائے گا کہ کہیں دین کے معاملے میں وہ فتنوں کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں شرک عام ہو وہ وہاں سے ہجرت کر کے ان علاقوں میں آ جائے جہاں اسلام کا غلبہ ہو اور اسی طرح جن علاقوں میں فسق و فجور کا دور دورہ ہو انہیں چھوڑ کر ان علاقوں میں آ جائے جہاں (اسلام پر) استقامت کا غلبہ ہو۔ لوگوں اور وقت کے تغیر کے ساتھ ایسے ہی کرنا چاہیے۔

تشریح: العربية

في الحديث فضل العزلة في أيام الفتن إلا أن يكون الإنسان ممن له قدرة على إزالة الفتنة، فإنه يجب عليه السعي في إزالتها إما فرض عين وإما فرض كفاية بحسب الحال والإمكان، وأما في غير أيام الفتنة فاختلف العلماء في العزلة والاختلاط أيهما أفضل؟، والمختار: تفضيل الخلطة لمن لا يغلب على ظنه الوقوع في المعاصي. "يفر بدينه من الفتن" يعني: يهرب خشية على دينه من الوقوع في الفتن، ولهذا أمر الإنسان أن يهاجر من بلد الشرك إلى بلد الإسلام، ومن بلد الفسوق إلى بلد الاستقامة، فكذلك إذا تغير الناس والزمان.

  • فضيلة العزلة لمن خاف على دينه.
  • الحديث من دلائل النبوة، فقد وقع ما أخبر به النبي –صلى الله عليه وسلم-، فلا يكاد المسلم ينجو بنفسه في الليل أو النهار.
  • الفرار من الفتن سبيل المؤمنين الخُلّص؛ لأنه صيانة للدين.
  • من خير مال المسلم غنم يرعاها في العشب المباح، حيث يكسب منها قوتاً طيباً.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید