حدیث

جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم في مقدمته

عربی متن

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنهما قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ».

ترجمہ

سمرہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے میری طرف منسوب کر کے کوئی حدیث بیان کی، حالاں کہ اسے لگ رہا ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ہو گا۔"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے آپ کے حوالے سے کوئی حدیث نقل کی اور وہ جانتا ہو، اسے لگتا ہو یا پھر اس کا غالب گمان ہو کہ اس حدیث کی نسبت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب جھوٹی ہے، تو روایت کرنے والا بھی اس جھوٹ کے آغاز کرنے والے کا شریک ہے۔

فوائد

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی گئی احادیث کی چھان بین کرنا اور انھیں روایت کرنے سے پہلے ان کے صحیح ہونے کا یقین حاصل کرنا ضروری ہے۔
  • جھوٹ ایجاد کرنے والے کے ساتھ ساتھ اسے نقل کرنے والا اور پھیلانے والا بھی جھوٹا ہے۔
  • کسی حدیث کے موضوع ہونے کا علم یا غالب گمان ہونے کے باوجود اسے نقل کرنا حرام ہے۔ ہاں، اس سے خبردار کرنے کے لیے نقل کیا جائے، تو بات الگ ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أن مَن نَقَلَ عنه حديثًا وهو يعلم أو يظن أو يغلِب على ظنه أنه كذبٌ عليه صلى الله عليه وسلم؛ فالراوي له يُشاركُ البادي بهذا الكذب.

  • التثبُّت من الأحاديث المروية عن النبي صلى الله عليه وسلم، والتأكد من صحتها قبل روايتها.
  • صفة الكذب تُطلق على كل من اختَرَعَ الكذب وعلى مَن قام بنقلِه ونشره بين الناس.
  • يحرم رواية الحديث الموضوع على مَن عَرَف كونَه موضوعًا، أو غلب على ظنه وضعُه إلا إذا كان للتحذير منه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید