حدیث

نبی ﷺ نے جمع (مزدلفہ) میں مغرب اورعشاء (کی نماز) کو ایک ساتھ پڑھی، ان میں سے ہرایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی،اور نہ ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کوئی نفل پڑھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «جَمَع النبيُّ صلى الله عليه وسلم بين المغرب والعشاء بِـجَمْع، لِكُلِّ واحدة منهما إقامة، ولم يُسَبِّحْ بينهما، ولا على إثْرِ واحدةٍ مِنْهُمَا».

ترجمہ

عبد الله بن عمر رضی الله عنهما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جمع (مزدلفہ) میں مغرب اورعشاء(کی نماز) کو ایک ساتھ پڑھی، ان میں سے ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہی اور نہ ان دونوں کے درمیان اور نہ ہی ان کے بعد کوئی نفل پڑھی۔

تشریح

عرفہ کے دن کا سورج ڈوبنے کے بعد نبی اکرم ﷺ وہاں سے مزدلفہ کی طرف پلٹے اور وہاں پہونچ کرآخری وقت میں مغرب اورعشاء کی نماز دوالگ الگ اقامتوں سے ایک ساتھ پڑھی اوران کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی تاکہ دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا جو مقصد ہےاس کو حا صل کرسکیں اور نہ ہی ان دونوں کے بعد کوئی نفل پڑھی تاکہ بھر پور آرام حاصل کر سکیں اور حج کے جو بقیہ کام ہیں ان کی ادائیگی بخوبی ہو سکے۔

تشریح: العربية

لما غربت الشمس منٍ يوم عَرَفة انصرف النبي صلى الله عليه وسلم منها إلى "مزدلفة"، فصلَّى بها المغرب والعشاء، جمع تأخير، بإقامة لكل صلاة، ولم يُصَلِّ نافلة بينهما؛ تحقيقاً لمعنى الجمع، ولا بعدهما؛ ليأخذ حظه من الراحة، استعداداً لما بعدها من مناسك.

  • مشروعية جمع التأخير بين المغرب والعشاء في "مزدلفة" في ليلتها.
  • أن يقام لكل صلاة من المغرب والعشاء، إقامة واحدة.
  • لم يذكر في هذا الحديث، الأذان لهما، وقد صح من حديث جابر -رضي الله عنه- أنه -صلى الله عليه وسلم- "جمع بينهما بأذان وإقامتين" ومن حفظ حجة على من لم يحفظ.
  • أنه لا يشرع التنفل بين المجموعتين ولا بعدهما، فهو من باب التيسير والتخفيف، والاستعداد للمناسك بنشاط؛ لأن هذه المناسك، ليس لها وقت تشرع فيه إلا هذا، فينبغي التفرغ لها، والاعتناء بها قبل فواتها.
  • يسر الشريعة وسهولتها، رحمةً من الشارع، الذي علم قدرة الناس وطاقتهم وما يلائمها.
  • الحكمة في هذا -والله أعلم- التخفيف والتيسير على الحاج؛ فهم في مشقة من التنقل، والقيام بمناسكهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید