حدیث

کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما قال: « صَلَّى بنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف في بعض أيامه، فقامت طائفة معه، وطائفة بِإِزَاءِ العدو، فصلَّى بالذين معه ركعة، ثم ذهبوا، وجاء الآخرون، فصَلَّى بهم ركعة، وقَضَتِ الطائفتان ركعة ركعة».

ترجمہ

عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ یوں دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔

تشریح

مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کی کسی جنگ میں آپ ﷺ نے لڑائی کے وقت ہمیں نماز پڑھائی۔ مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں نماز میں مشغول ہونے سے کفار ان پر دھاوا نہ بول دیں، دشمن قبلے کی جانب نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا، ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے نمازیوں کے پہرے کے لیے کھڑی ہوئی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز کی حالت میں چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ دوسری جماعت آئی جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ جس گروہ نے آخر میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس نے باقی رکعات کی قضا کی اور پھر پہرہ کے لیے چلی گئی، اور پہلی جماعت نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ یہ نماز خوف پڑھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے مُراد وہ ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”سب لوگ نماز میں تھے، تاہم بعض لوگ بعض کا پہرہ دے رہے تھے“۔ (بخاری)

تشریح: العربية

صلى النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف بأصحابه في بعض حروبه مع المشركين حينما التقى المسلمون بعدوهم من الكفار وخافوا من شَنِّ الغارة عليهم عند اشتغالهم بالصلاة، والعدو في غير القبلة، فقسم النبي صلى الله عليه وسلم الصحابة طائفتين، طائفة قامت معه في الصلاة، وطائفة وجاه العدو، يحرسون المصلين. فصلى بالتي معه ركعة، ثم ذهبوا وهم في صلاتهم فوقفوا في نحر العدو، وجاءت الطائفة التي لم تصل، فصلى بها ركعة ثم سلم النبي صلى الله عليه وسلم . فقامت الطائفة التي معه أخيرًا فقضت الركعة الباقية عليها، ثم ذهبوا للحراسة، وقضت الطائفة الأولى الركعة التي عليها أيضا، وهذه صفة من الصفات الواردة لصلاة الخوف، والقصد منها كما قال ابن عباس رضي الله عنهما : (والناس كلهم في صلاة، ولكن يحرس بعضهم بعضا). رواه البخاري.

  • مشروعية صلاة الخوف عند وجود سببها، حضرًا أو سفرًا، تخفيفًا على الأمة ومعونة لهم على جهاد الأعداء، وأداءً للصلاة في جماعة في وقتها المحدد.
  • مشروعية الإتيان بها على هذه الكيفية التي ذكرت في الحديث.
  • أن الحركة الكثيرة لمصلحة الصلاة، أو للضرورة، لا تبطل الصلاة.
  • الحرص الشديد على الإتيان بالصلاة في وقتها ومع الجماعة، فقد سمح بأدائها على هذه الصفة محافظة على ذلك.
  • أخذ الأهبة، وشدة الحذر من أعداء الدين، الذين يبغون الغوائل للمسلمين.
  • وجوب صلاة الجماعة على الرجال سفرًا وحضرًا في حال الأمن والخوف.
  • صلاة الجماعة تدرك بركعة.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید