ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه مرفوعًا: «لا يُصَلِّي أحدكم في الثَّوْبِ الواحد، ليس على عاتقيه منه شيء».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر کچھ بھی کپڑا نہ ہو“۔
تشریح
نمازی سے مطلوب یہ ہے کہ وہ بہترین ہیئت اختیار کرے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ ”اے آدم کی اولاد مسجدوں میں آتے ہوئے زینت اختیار کرو“۔ اور اس لیے کہ بادشاہوں، معززین اور سرداروں سے ملنے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بہترین حالت اور ہیئت کو اختیار کرے۔ ذرا سوچئے کہ پھر جو بادشاہوں کا بادشاہ اور سرداروں کا سردار ہے اس سے کیسے ملنا چاہیے؟ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے نمازی کو اس بات کی تلقین فرمائی کہ وہ اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں حالانکہ اس کے پاس ایسا کپڑا بھی ہو جس سے وہ ان دونوں کو یا ان میں سے ایک کو چھپا سکتا ہو۔ آپ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اس حال میں نماز ادا کرے اور اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے مناجات کرے۔
تشریح: العربية
المطلوب من المُصلِّي أن يكون على أحسن هيئة، فقد قال تعالى: {يا بني آدم خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كل مَسجدٍ}. ولأن مقابلة الملوك ولقاء الأشراف والسادة؛ يتطلب من الإنسان أن يكون على أكمل الأحوال وأحسن الهيئات، فكيف بمقابلة ملك الملوك وسيد السادات؟ ولذا فإن النبي صلى الله عليه وسلم حثَّ المُصلِّي أن لا يصلِّى وعاتقاه مكشوفان مع وجود ما يسترهما أو أحدهما، ونهى عن الصلاة في هذه الحال، وهو واقف بين يدي الله يناجيه.
- جواز الصلاة في الثوب الواحد إذا ستر ما يجب ستره.
- جواز الصلاة في ثوبين، أحدهما يستر أعلى الجسم، والاخر يستر أسفله.
- النهي عن الصلاة بدون ستر العاتق، قال شيخ الإسلام ابن تيمية: ستر العاتق لحق الصلاة؛ فيجوز له كشف مِنْكَبيْه خارج الصلاة، وحينئذ فقد يستر المصلي في الصلاة ما يجوز إبداؤه في غير الصلاة.
- استحباب كون المُصلِّى على هيئة حسنة.