حدیث

”رحم“ ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن تھام رکھی ہے، جو اسے جوڑےگا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن عباس رضي الله عنهما مرفوعاً: «إنَّ الرَّحِمَ شِجْنَةٌ آخذةٌ بحُجْزَةِ الرَّحمنِ، يَصِلُ مَن وَصَلَها، ويقطعُ مَن قَطَعَها».

ترجمہ

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رحم ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن (حجزۃ: یہ مخلوق کے ازار باندھنے کی جگہ ہے، رہا اس کا معنی اللہ تعالی کے حق میں، تو وہ اس کی عظمت وجلالت کے شایان شان ہے) تھامے رکھا ہے، جو اسے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا“۔

تشریح

”رحم“ یعنی صلہ رحمی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ یہ نام لفظِ رحمٰن سے لیا گیا ہے۔ یہ حدیث ان احادیثِ صفات میں سے ہے، جن کے بارے میں ائمہ نے یہ واضح کیا ہےکہ یہ جیسے وارد ہوئی ہیں، ویسے ہی نقل کی جائیں اور ان کے مفہوم کی نفی نہ کی جاۓ۔ الحُجزة یہ ان صفات میں سے ہے، جن پر بغیر تحریف، تعطیل اور بغیر کیفیت اور تمثیل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ رحم وہ رشتے داری ہے، جس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور قطع رحمی کرنے والے اور ناطہ توڑنے والے کے ساتھ قطع رحمی کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ قطع رحمی کرے، وہ کٹا ہوا ہے، اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ ۔ہے، اگر تمام مخلوق اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور فائدہ پہنچانا چاہیں، تو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔

تشریح: العربية

الرَّحِم لها تعلُّق بالله عز وجل ، فقد اشتُقَّ اسمها من اسم الرحمن، وهذا الحديث في الجملة من أحاديث الصفات، التي نص الأئمة على أنه يُمر كما جاء، وردوا على من نفى موجبه، والحُجزة على ذلك من الصفات التي يجب الإيمان بها من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، فنؤمن بأن الرحم وهي القرابة تعتصم بها، وأن الله عز وجل يصل من وصلها، ومن قطع رحمه ولم يصل قرابته، قطعه الله، ومن قطعه الله فهو المقطوع مع عدو الله الشيطان الطريد الرجيم، ولو أراد الخلق كلهم صلته ونفعه، لم يفده ذلك.

  • الرحم اشتق اسمها من اسم الرحمن فلها به تعلق.
  • الإيمان بأن الحُجزة والحقو صفتان ذاتيان خبريَّتان ثابتتان بالسنة الصحيحة، نؤمن بها من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل.
  • جعل الله -تعالى- للرَّحِم حقًّا عظيمًا، وأن وصلها من أكبر أفعال البر، وأن قطعها من أكبر المعاصي.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید