حدیث

کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن الزُّبير بن العوام رضي الله عنه أنَّه كانت عنده أمُّ كُلثوم بنتُ عقبة، فقالت له وهي حاملٌ: طَيِّب نفسي بتطليقة، فطلَّقها تطليقةً، ثم خرجَ إلى الصلاة، فرجع وقد وضعت، فقال: ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ، ثم أتى النبيَّ صلى الله عليه وسلم ، فقال: «سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه، اخطِبها إلى نفسِها».

ترجمہ

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا دیا، اللہ اس سے دھوکا دے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو“۔

تشریح

زبیر بن عوام نے امّ کلثوم بنت عقبہ کے ساتھ شادی کی تھی، بیوی نے حاملہ ہونے کی حالت میں ان سے کہا ”طيِّب نفسي بتطليقة“ یعنی مجھے ایک طلاق دے کر خوش کردو۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھیں اور ان کے نکاح سے ایسے نکلنا چاہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ ان سے رجوع نہ کرسکے، لیکن اس نے بچے کی ولادت قریب ہونے کی وجہ سے شوہر سے ایک طلاق کا مطالبہ کیا، وہ جانتی تھی کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایک طلاق دی اور نماز کے لئے نکل گیے، واپس لوٹے تو بیوی بچہ جن چکی تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ“ خداع (دھوکا دینا) اللہ تعالیٰ کی صفاتِ فعلیہ خبریہ میں سے ہے۔ لیکن علی الاطلاق اس سے اللہ تعالیٰ کو متصف نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ مقابلۃً اللہ کی صفت بنتی ہے، چنانچہ اس طرح کہا جائے جو اللہ کو دھوکا دیتا ہے اللہ اسے دھوکا دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا منافقین کو دھوکا دینا اور مؤمنین کو دھوکا دینے والوں کو دھوکا دینا وغیرہ۔ اس کی تاویل یوں کرنا درست نہیں کہ حضرت زبیر کی مُراد یہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بدلہ ہے دھوکے کی شکل میں۔ بلکہ دوسری صفات کی طرح اس صفت کو بھی بغیر رد و بدل، تعطیل اور بغیر تکییف و تمثیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ پھر زبیر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ سارا واقعہ بتایا جو ان کے ان کی بیوی کے درمیان گزرا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا ”سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه“ یعنی مقررہ عدت امید سے پہلے پوری ہو چکی اور طلاق واقع ہو گئی۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اخطِبها إلى نفسِها“ یعنی تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو، عدت گزرنے کی وجہ سے تمہیں ان کی ذات پر کوئی حق نہیں رہا۔

تشریح: العربية

كان الزبير بن العوام متزوِّجًا بأم كلثوم بنت عقبة فقالت له وهي حامل: «طيِّب نفسي بتطليقة» أي: أدخل علي السرور بتطليقة واحدة، والظاهر أنها كانت لا تحبه وتريد أن تخرج من تحته خروجًا لا يتمكَّن من مراجعتها، فطلبت منه أن يطلقها طلقة واحدة لما أحسَّت بقرب ولادتها، وعلمت أن عدة الحامل أن تضع حملها، فطلَّقها تطليقةً، ثم خرجَ إلى الصلاة، فرجع وقد ولدت، فقال: «ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ» والخداع من صفات الله تعالى الفعلية الخبرية، ولكنه لا يوصف بها على سبيل الإطلاق، إنما يوصف بها على سبيل المقابلة، فيقال يخدع الله من يخدعه، مثل خداعه للمنافقين، وخداعه لمن يمكر بالمؤمنين وما شابه ذلك، ولا يجوز تأويلها بقولهم إن الزبير أراد بقوله هذا: جزاها الله تعالى بخداعها. بل يجب إثبات هذه الصفة كغيرها من صفات الله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل. ثم أتى الزبير إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره بما حدث بينه وبين زوجته، فقال صلى الله عليه وسلم: «سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه»، أي: مضت العدة المكتوبة قبل ما يتوقع من تمامها، ووقع الطلاق، ثم قال صلى الله عليه وسلم: «اخطِبها إلى نفسِها» أي: كن واحدًا من الخُطاب لا حقَّ لك في نفسها؛ لخروجها عن العدة.

  • يجب إثبات صفة الخداع كغيرها من صفات الله تعالى من غير تحريف ولا تعطيل ومن غير تكييف ولا تمثيل، والخداع في مقابلة من يخادع صفة كمال لا نقص.
  • الخداع من صفات الله تعالى الفعلية الخبرية، ولكنه لا يوصف بها على سبيل الإطلاق، إنما يوصف بها على سبيل المقابلة حين تكون مدحًا.
  • عدة الحامل أن تضع حملها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید