ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي رَمْثة رضي الله عنه أنَّه قال للنبي صلى الله عليه وسلم : أَرِني هذا الذي بظهرك، فإنِّي رجلٌ طبيبٌ، قال: «اللهُ الطبيبُ، بل أنت رجلٌ رَفِيقٌ، طبيبُها الذي خلقَها».
ترجمہ
ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ مجھے اپنی پشت پر جو یہ چیز ہے دکھائیں کیونکہ میں طبیب آدمی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طبیب صرف اللہ ہے اور تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے“۔
تشریح
ابو رمثہ ایک طبیب تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین مہر نبوت کو ابھرے ہوئے دیکھا تو انہیں گمان گزرا کہ یہ زائد مادوں سے پیدا شدہ گلٹی ہے یا پھر کوئی جلدی بیماری ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا علاج کرنے کی اجازت چاہی۔ نبی ﷺ نے یہ کہہ کر ان کی پیشکش کو رد فرما دیا کہ:”طبیب تو اللہ ہے“ یعنی دوائے شافی کے ساتھ بیماری کا حقیقی علاج کرنے والا تو وہی ہے۔ ”بل أنت رجل رفيق“ تم تو بس مریض کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنے والے ہو کیونکہ طبیب دواء اور بیماری کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے جبکہ صحت اور شفاء دینے پر قادر تو صرف اللہ ہے۔
تشریح: العربية
كان أبو رمثة طبيبًا، فرأى خاتم النبوة ظاهرًا ناتئًا بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم ، فظنه سلعة تولدت من الفضلات أو مرضًا جلديًّا، فطلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يعالجه، فرد المصطفى صلى الله عليه وسلم كلامه بأن «الله الطبيب» أي: هو المداوي الحقيقي بالدواء الشافي من الداء «بل أنت رجل رفيق» ترفق بالمريض وتتلطف به، وذلك لأن الطبيب هو العالم بحقيقة الدواء والداء، والقادر على الصحة والشفاء، وليس ذلك إلا الله.
- خاتم النبوة كان ظاهرًا بين كتفي النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- جواز إطلاق «الطبيب» عليه -تعالى-.