حدیث

اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (شدہ جانور) سے پار نکل جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: بعَث عليُّ بن أبي طالب رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مِن اليَمَن بذُهَيْبة في أدِيمٍ مَقْرُوظ، لم تُحَصَّل من تُرَابِها، قال: فقَسَّمها بين أَربعَة نَفَر، بين عُيَيْنة بن بدر، وأقْرَع بنِ حَابِس، وزَيدِ الخَيل، والرابع: إِمَّا عَلقَمَة وإمَّا عَامِر بنُ الطُّفَيل، فقال رجل مِن أَصحَابه: كُنَّا نحْن أحق بهذا من هؤلاء، قال: فبلغ ذلك النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلم- فقال: «ألا تَأْمَنُونِي وأنا أمينُ مَن في السَّماءِ، يَأْتِينِي خبرُ السماءِ صباحًا ومساءً»، قال: فقام رجلٌ غائِرُ العَيْنَيْنِ، مُشْرفُ الوَجْنَتين، ناشِزُ الجَبْهة، كَثُّ اللِّحيَة، مَحْلُوقُ الرَّأس، مُشَمَّر الإزار، فقال يا رسولَ الله اتَّق الله، قال: «وَيْلَك، أَوَلَسْتُ أحقَّ أهلِ الأرض أن يتَّقِيَ الله» قال: ثم ولَّى الرَّجلُ، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، ألا أضرِبُ عُنُقَه؟ قال: «لا، لَعَلَّه أنْ يكون يُصَلِّي» فقال خالد: وكَم مِن مُصَلٍّ يقول بلسانِه ما ليس في قلبِه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إني لم أومَرْ أنْ أُنَقِّبَ عن قلوب الناس ولا أَشُقَّ بطونَهم» قال: ثم نظر إليه وهو مُقْفٍ، فقال: «إنه يخرج من ضِئضِئ هذا قومٌ يتلونَ كتابَ اللهِ رَطْبًا، لا يُجَاوِز حَنَاجِرَهم، يَمْرُقون من الدِّين كما يَمْرُق السَّهْمُ مِن الرَّمِيَّة»، وأظنه قال: «لئن أدركتُهم لأَقْتُلَنَّهُم قَتْلَ ثمودَ».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دیےہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے ( کان کی ) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ۔ عیینہ بن بدر ، اقرع بن حابس ، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہ تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ ۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اس پر کہا کہ ان لو گو ں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:’’تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالاں کہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور میرے پاس آسمان کی خبر (وحی) صبح و شام آتی ہے۔‘‘راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی ، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند اٹھائے ہوئے تھا ، کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ ! اللہ سے ڈریئے۔ آپﷺنے فرمایا ، افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں۔‘‘ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟‘‘، آپﷺ نے فرمایا:’’نہیں شاید وہ نما ز پڑھتا ہو‘‘، اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھےاس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج کروں اور ان کے پیٹ چاک کروں‘‘، راوی نے کہا پھر آپ ﷺ نے اس ( منافق ) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا ۔ آپﷺنے فرمایا کہ ’’ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (شدہ جانور) سے پار نکل جاتا ہے۔‘‘ (راوی) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا۔‘‘

تشریح

نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ وہ لوگوں کو اللہ کی دعوت دیتے، صاحب نصاب سے زکوۃ وصول کرتے اور ان کے تنازعات کے فیصلے کرتے تھے۔ یہ حجۃ الوداع سے پہلے کی بات ہے۔ پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے واپس آئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے مکہ میں ملے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سونے کا ڈلا (ٹکڑا) بھیجا تھا جس سے مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی اس لیے وہ خالص سونا نہیں تھا کیونکہ وہ مٹی کے ساتھ مختلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ ڈلا مذکورہ بالا چار افراد کے مابین تقسیم کر دیا اس امید پر کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ وہ چوں کہ اپنے قبائل کے سردار تھے اس لیے اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تو ان کی پیروی میں بہت بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے ترغیبِ اسلام اور تالیفِ قلب کے لیے وہ سونا ان کو دے دیا۔ ان میں سے جن مسلمانوں کو دیا تو اس کا مقصد ایمان پر مضبوطی اور ثابت قدمی تھا۔ سونے کا یہ ڈلا خمس میں سے تھا اوراہلِ علم نےاس کو بعید خیال کیا ہے کہ یہ اصل مال غنیمت میں سے تھا، یہ بھی امکان ہے کہ یہ مالِ زکوۃ میں سے ہو۔ جب رسول اللہﷺ نے ان مذکورہ بالا افراد کو دیا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا:ان چاروں کی بہ نسبت ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ یہ مال ہمیں دیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ علم ہوا تو آپﷺنے فرمایا: ”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور آسمان سے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت میں مجھ پر اعتبار کیا ہے اور مجھے زمین پر رسالت سے نوازا ہے اور اے اعتراض کرنے والے اورراہِ راست سے بھٹکے ہوئے جو تیرے ہمنوا ہیں! تم لوگ مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟! تم مجھ پر دنیا کے حقیر چیز پر اعتبار نہیں کر تےکہ میں اس کو وہاں رکھوں جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ”جو آسمان میں ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر بلندی کی دلیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو آسمان پر ہے۔ یہاں پر ’فی‘ بمعنی ’علی‘ ہے کیوں کہ عرب ’فی‘ کو ’علی‘ کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ”زمین پر چلو پھرو“ اور اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ ”کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دوں گا“ تو اس کا مطلب ہے علی الارض (زمین پر) اور علی جذوع النخل (کھجور کےتنوں پر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”في السماءِ“ (آسمان پر) یعنی آسمان سے اوپر عرش پر۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اِس قول کے مثل ہے: ﴿أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ، أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا﴾ ”کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگیے ہو کہ آسمان والا تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگیے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسائے پھر تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا“۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا (جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند ٹخنوں سے اوپر اٹھائے ہوئے تھا، نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا: اللہ سے ڈریے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں“ یعنی نبی کریم ﷺ لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اس کا صریح ظلم تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اس لیے کھڑا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے ڈر کی نصیحت کرے اور آپ ﷺ سے یہ کہے کہ (اللہ سے ڈریے) اس کے باوجود کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کیا تھا وہ عین تقویٰ کے مطابق اور عظیم اطاعات میں شامل تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے لیے، اس کے دین کی مدد کے لیے اور لوگوں کی ہدایت کے پیش نظر ان کو نواز رہے تھے۔جب یہ شخص چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو“ خالد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ :بہت سارے نمازی جو زبان سے کچھ کہتے ہیں لیکن ان کے دل میں ویسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں“ یعنی میں لوگوں کےساتھ ان کے ظاہر کے مطابق ہی معاملہ کروں اور ان کے باطن میں کیا ہے اس کو چھوڑ دوں اسے اللہ بہتر جانتا ہے وہ خود ہی اس کا حساب کر لے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ کہنے والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“، مقصد یہ خبر دینا تھا کہ اس گمراہ آدمی کی نسل سے ایسے افراد آئیں گے جو اس کے راستے پر چلنے والے ہوں گے، قرآن کی کثرت قرأت اور حفظ کی وجہ سے تلاوت بڑی خوش الحانی سے کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ اس کا جو مقصود و معنی ہے وہ نہیں سمجھیں گے اورغیر موضوع لہ معنی مراد لیں گے۔ کیوں کہ یہ گمراہ اور جاہل ہوں گے اس لیے اسلام سے بھی بغیر متاثر ہوئے بڑی آسانی اور تیزی سے خارج ہو جائیں گے گویاکہ یہ اسلام میں داخل ہی نہیں تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں گے لیکن ایمان ان کے دل میں جگہ نہیں پائے گا، اور نہ ہی ان کے چہروں سے اسلام کا تصور نظر آئے گا اس لیے یہ چیزیں ان کے اوصاف میں شامل ہوں گی کہ: وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، کافروں کو بتوں کی عبادت کی دعوت دیں گے۔اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“یعنی میں پوری طاقت سے قتل کرتا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑتا۔

تشریح: العربية

أرسل النبي صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب إلى اليمن، يدعو إلى الله تعالى ويقبض الزكاة من أصحابها، ويقضي في المنازعات، وكان ذلك قبل حجة الوداع، ثم إن علياً رجع من اليمن، وقابل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة، في حجة الوداع، وكان قد أرسل بقطعة من الذهب لم تخلص من ترابها، فليست ذهباً خالصاً؛ لأنها مختلطة بالتراب، فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين هؤلاء الأربعة المذكورين رجاء إسلامهم، وكانوا رؤساء قبائلهم، فإذا أسلموا أسلم تبعاً لهم خلق كثير، ولهذا أعطاهم النبي صلى الله عليه وسلم المال ترغيباً لهم في الإسلام، وتأليفاً لقلوبهم عليه، ومن كان منهم مسلمًا فيعطى لتقوية إيمانه وتثبيته، وكانت هذه القطعة الذهبية من الخمس، واستبعد أهل العلم أن تكون من أصل الغنيمة، ويمكن أن تكون زكاة. فلما أعطى النبي صلى الله عليه وسلم هؤلاء الأربعة المذكورين قام رجل من المسلمين، فقال: كنا نحن أحق أن نُعطى من هذا المال من هؤلاء الأربعة؟ فعلم النبي صلى الله عليه وسلم بذلك فقال: «ألا تأمنوني وأنا أمينُ مَن في السماءِ، يأتيني خبرُ السماءِ صباحًا ومساءً» أي: يأمنني الله تعالى على الرسالة التي أرسلني بها إلى الأرض، ولا تأمنني أنت أيها المعترض، ومَن على شاكلتك ممن ضل طريق الرشد، لا تأمنوني على حُطام الدنيا أن أضعه حيث يجب أن يوضع، على وفق أمر الله تعالى ، وقوله: «مَن في السماءِ» من أدلة علو الله تعالى على خلقه، ومعناه: الله الذي في السماء، و"في" هنا بمعنى "على" لأن العرب قد تضع "في" بموضع "على" قال الله تعالى : {فسيحوا في الأرض}، وقال: {ولأصلبنكم في جذوع النخل} ومعناه: على الأرض، وعلى جذوع النخل، فكذلك قوله: «في السماء» أي: على العرش، فوق السماء، وهذا الحديث مثل قول الله تعالى : {أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ {16} أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ً}. وبينما هم كذلك قام رجل من صفته أن عينيه داخلتين في محاجرهما لاصقتين بقعر الحدقة، وعظما خديه بارزان، مرتفع الجبهة، ضخم اللحية، رأسه محلوق، ثوبه مرتفع أعلى من الكعبين، فقال للنبي صلى الله عليه وسلم : اتق الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «وَيْلَك، أَوَلَسْتُ أحقَّ أهل الأرض أن يتقيَ الله» يعني: أنه صلى الله عليه وسلم هو أحق الناس وأولاهم بطاعة الله تعالى وتقواه، ومن الضلال المبين أن يتصور الإنسان الطاعة معصية، فهذا الرجل المعترض تصور أن فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم معصية، وأنه من الظلم، فنصب نفسه آمراً بتقوى الله، فقال للرسول صلى الله عليه وسلم : «اتق الله» مع أن فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم هو التقوى، ومن أعظم الطاعات، فهو يعطي لله، ولنصر دينه، وهداية عباده. فلما ذهب الرجلُ، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، دعني أقتله؟ فقال صلى الله عليه وسلم : «لا، لعلَّه أنْ يكون يصلي» فقال خالد: وكم مِن مُصَلٍّ يقول بلسانِه ما ليس في قلبِه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إني لم أومَرْ أنْ أُنَقِّبَ عن قلوب الناس ولا أَشُقَّ بطونَهم» أي: إنما أعامل الناس بما ظهر منهم، وأترك بواطنهم لله هو أعلم بها، فيحاسبهم عليها سبحانه، وفي رواية أن القائل عمر بن الخطاب رضي الله عنه . ثم نظر النبي صلى الله عليه وسلم لهذا الرجل وهو ذاهب فقال: «إنه يخرج من ضِئضِئ هذا قومٌ يتلونَ كتابَ اللهِ رَطْبًا، لا يجاوز حناجرَهم، يَمْرُقون من الدين كما يَمْرُق السَّهْمُ مِن الرَّمِيَّة، لئن أدركتُهم لأقتلنَّهم قَتْلَ ثمودَ» والمقصود: الإخبار بأنه يأتي من جنس هذا الرجل الضال، قوم يسلكون مسلكه، يقرؤون القرآن سهلًا لكثرة قراءتهم وحفظهم له، ولكن لا يصل إلى قلوبهم، فهم لا يفهمونه على ما أريد، بل يضعونه في غير موضعه؛ لأنهم ضالون وجاهلون، ولهذا يخرجون من الإسلام بسرعة وسهولة، غير متأثرين به، كأنهم لم يدخلوه، وهذا يدل على أنهم دخلوا في الإسلام، ولكن لم يتمكن الإيمان في قلوبهم، ولم يفهموه على وجهه، ولهذا صار من أوصافهم: أنهم يقتلون أهل الإسلام، ويدعون الكفار عباد الأوثان، ومن أجل ذلك قال صلى الله عليه وسلم : «لئن أدركتهم، لأقتلنهم قتل ثمود» أي: لأقتلنهم القتل الشديد القوي، فلا أبقي منهم أحداً.

  • علو الله تعالى على خلقه وأنه في السماء، بمعنى أنه فوقها.
  • إعطاء بعض الكفار من أموال المسلمين لتأليفهم وتحبيبهم في الإسلام.
  • معاملة الناس بما ظهر منهم، والله يتولى سرائرهم.
  • تعظيم قدر الصلاة، وأن أهل الصلاة لا يُقتلون.
  • خطر الخوارج، وأنهم إذا قاتلوا يشرع قتالهم لدفع أذاهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید