حدیث

آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «احتجَّ آدمُ وموسى، فقال له موسى: يا آدمُ أنت أبونا خَيَّبتنا وأخرجتَنا من الجنة، قال له آدمُ: يا موسى اصطفاك اللهُ بكلامِه، وخطَّ لك بيدِه، أتلومُني على أمرٍ قَدَّره اللهُ عليَّ قبل أنْ يخلُقَني بأربعين سنةً؟ فحَجَّ آدمُ موسى، فحَجَّ آدمُ موسى».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“۔

تشریح

”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا“ یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے سامنے اپنی دلیل بیان کی۔ ممکن ہے کہ ایسا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہو یا پھر خواب میں ہوا ہو کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور ہم اس کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے قاصر ہیں۔ ”موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا“ یعنی آپ اس غلطی کے سبب ہماری محرومی اور دوری کی وجہ بنے جس کی وجہ سے آپ کو جنت سے نکال دیا گیا اور پھر ہم بھی شیطانوں کے بہکاؤں کے برسرِ پیکار ہوگئے۔ ”آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب کیا“ یعنی اپنا کلام سنانے کے لیے اللہ نے آپ کو چنا۔ تمام رسولوں میں سے صرف موسی علیہ السلام کا یہ خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطے کے ان سے ہم کلام ہوا اور انہیں اپنا وه کلام سنایا جو الله کی طرف سے انہی کے ليے تھا۔ ”اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے (تورات کو) لکھا“ یعنی توریت کو اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے لکھا۔ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اس بات پر بغیر کسی تکییف و تعطیل اور بنا کسی تحریف و تمثیل کے ایمان لائیں۔ ”کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے لیے مقدر کر دی تھی؟“ یعنی ایک ایسی بات پر آپ مجھے کیسے ملامت کر رہے ہیں جسے اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لوح محفوظ میں اور توریت کے صحیفوں اور اس کی تختیوں میں لکھ دیا تھا۔ ”چنانچہ آدم علیہ السلام دلیل میں موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ یعنی حجت کے ذریعے ان پر غالب آ گئے۔ آدم علیہ السلام کی موسی علیہ السلام پر حجت یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جب آدم علیہ السلام کے بارے میں اس بات کا علم تھا کہ وہ جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائیں گے تو وہ اللہ کے علم کو کیسے رد کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کی حجت غالب آ گئی کیونکہ جو شے نوشتۂ تقدیر ہو اس میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ تقدیر ہوتی ہے جسے علیم و قدیر ذات نے متعین کیا ہوتا ہے چنانچہ اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کے بعد اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم جو شے واقع نہیں ہوئی ہے اس میں تقدیر حجت نہیں بن سکتی کیونکہ انسان کو حکم ہے کہ وہ نیک اعمال کرےاور برائی سے اجتناب کرے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے حق میں کون سی شے مقدر ہے یہاں تک کہ وہ واقع ہو جائے۔ جب کوئی بات واقع ہو جائے اور اس کا ٹالنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت وہ تقدیر کے سپرد کرے اور کہے کہ: یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا اور اس نے جو چاہا کیا۔ اور وہ اپنے گناہ پر معافی کا طلب گار ہو اور اپنے رب سے توبہ کرے۔ چنانچہ واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر اس وقت دلیل میں غالب آ گئے جب موسی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو اس (خطا) پر ملامت کرنا چاہا جس کی بدولت ان کی اولاد مصیبت سے دوچار ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے دلیل دی کہ یہ مصیبت پہلے سے ہی مقدر تھی اور اس کو واقع ہو کر ہی رہنا تھا۔ چاہے مصائب وہ ہوں جو بندوں کے افعال کی وجہ سے آتے ہیں یا ان کے علاوہ ہوں، بندے پر (ہر صورت میں) صبر و تسلیم ہی واجب ہے، تاہم اس کی بنا پر مجرم سے ملامت اور اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔

تشریح: العربية

«احتجَّ آدم وموسى» عليهما السلام أي: كل واحد منهما ذكر حُجَّته أمام الآخر، وهذا يجوز أن يكون بعد وفاة موسى، أو أنه في الرؤيا، فإن رؤيا الأنبياء وحي، ومثل هذا يجب فيه التسليم، ولا نستطيع الوقوف على حقيقته «فقال له موسى: يا آدمُ أنت أبونا خَيَّبتنا وأخرجتَنا من الجنة» أي: كنت سبب خيبتنا وإغوائنا بالخطيئة التي ترتَّب عليها إخراجك من الجنة، ثم تَعَرضنا نحن لإغواء الشياطين. «قال له آدمُ: يا موسى اصطفاك اللهُ بكلامِه» أي: اختارك الله تعالى بأن أسمعك كلامه، وهذا الذي اختص به موسى من بين الرسل، بأن الله تعالى كلمه بدون واسطة، بل أسمعه كلامه منه إليه. «وخطَّ لك بيدِه» أي: كتب لك التوراة بيده، ويجب علينا أن نؤمن بهذا من غير تكييف ولا تعطيل ومن غير تحريف ولا تمثيل. «أتلومُني على أمرٍ قَدَّره اللهُ عليَّ قبل أنْ يخلُقَني بأربعين سنةً؟» أي: كيف تلومني على أمر كتبه الله عليَّ في اللوح المحفوظ وفي صحف التوراة وألواحها قبل خلقي بأربعين سنة. «فحَجَّ آدمُ موسى» أي: غلبه بالحجة، وإنما كان موضع الحجة لآدم على موسى -صلوات الله وسلامه عليهما- أن الله سبحانه إذا كان قد علم من آدم أنه سيخرج من الجنة وينزل للأرض فكيف يمكنه أن يرد علم الله فيه، فحجة آدم عليه السلام ظهرت؛ لأن ما قُدِّر عليه أمر لا يمكن تغييره ولا رده، بل هو قدر قدره العليم القدير، فلا يمكن دفعه، ولا رفعه بعد وقوعه، فليس أمامه إلا التسليم، ومع ذلك لا يكون القدر حجة فيما لم يقع؛ لأن الإنسان مأمور بفعل الطاعة، واجتناب المعصية، وهو لا يعلم ما هو المقدر عليه حتى يقع، فإذا وقع الأمر وتعذر دفعه هناك يسلم للقدر، ويقول: قدر الله وما شاء فعل، ويستغفر من ذنبه ويتوب إلى ربه. فتبين أن آدم حج موسى لما قصد موسى لوم آدم على ما كان سبباً في مصيبة أبنائه، وأن آدم احتج بأن هذه المصيبة سبق بها القدر، ولا بد من وقوعها، وسواء في ذلك المصائب التي تحصل بأفعال العباد، أو غيرها، فإن على العبد الصبر والتسليم، ولا يسقط بذلك لوم الجاني وعقابه.

  • من عمل الخطايا ولم تأته المغفرة، فإن العلماء مجمعون أنه لا يجوز له أن يحتج بمثل حجة آدم.
  • الأمة مجمعة على جواز حمد المحسن على إحسانه، ولوم المسئ على إساءته وتعديد ذنوبه عليه.
  • الجنة موجودة من قبل آدم، وهذا مذهب أهل الحق.
  • إثبات الكلام لله تعالى، وأنه كلَّم موسى.
  • إثبات اليد لله تعالى.
  • كتب الله تعالى التوراة لموسى بيده.
  • هذا الحديث أصل في إثبات القدر، وأن الله قضى أعمال العباد، فكل أحد يصير لما قُدِّر له بما سبق في علم الله تعالى، وليس فيه حجة للجبرية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید