حدیث

سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَن أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَرْكَبُ البَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا القَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنَ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الحِلُّ مَيْتَتُهُ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیا : "یا رسول اللہ! ہم سمندری سفر پر جاتے ہیں اور ہمارے ساتھ تھوڑا سا پانی ہوتا ہے۔ اگرہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جاتے ہیں۔ لہذا کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟"۔ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب دیا : "سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردار حلال ہے"۔

تشریح

ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا : ہم شکار، تجارت اور اس طرح کے دوسرے مقاصد کے تحت کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر کا سفر کرتے ہيں۔ ہمارے ساتھ پینے کا پانی بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کا استعمال وضو اور غسل میں کریں گے، تو وہ ختم ہو جائے گا اور پینے کا پانی نہیں بچے گا۔ لہذا کیا ہمارے لیے سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز ہوگا؟ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے سمندر کے پانی کے بارے میں فرمایا : اس کا پانی خود بھی پاک ہے اور اس کے اندر دوسرے کو پاک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس سے نکلنے والی مچھلیوں وغیرہ کا کھانا بھی جائز ہے۔ اگرچہ وہ مردہ حالت میں پانی کی سطح پر تیرتی ہوئی ہی کیوں نہ پائی جائيں اور کسی نے ان کا شکار نہ بھی کیا ہو۔

فوائد

  • سمندری جانور مرے ہوئے حالت میں بھی حلال ہیں۔ یعنی ایسے جانور جو سمندر ہی میں رہتے ہوں اور اس کے اندر مر جائيں، تو انھیں کھانا جائز ہے۔
  • سوال کرنے والے کو اتمام فائدہ کے لیے اس کے سوال سے زیادہ جواب دیا جا سکتا ہے۔
  • کسی طاہر چيز کے ملنے سے پانی کا مزہ، رنگ یا بو بدل جائے، تو وہ پاک ہی رہتا ہے، بشرطیکہ وہ پانی اپنی حقیقی حالت پر باقی رہے۔ خواہ وہ سخت نمکین، سخت گرم یا سخت ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو جائے۔
  • سمندر کا پانی چھوٹی اور بڑی ناپاکیوں کو دور کردیتا ہے اور کسی پاک چيز، مثلا بدن یا کپڑے وغیرہ پر لگنے والی گندگی کو بھی اس سے دور کیا جا سکتا ہے۔
تشریح: العربية

سَألَ رَجلٌ النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إنا نَركَب السُّفُنَ في البحر للصيد أو التجارة وما شابه ذلك، ونَحمِل معَنا القليلَ من الماء الصالح للشُّرْب، فإن استعملنا ماءَ الشرب للوضوء والغسل نَفِدَ ولم نَجِدَ ما نَشْرَبُه، فهل يَجوز لنا أنْ نتوضأ من ماء البحر؟ فقال صلى الله عليه وسلم عن ماء البحر: ماؤه طَاهِرٌ مُطَهِّر؛ يجوز الوضوء منه والاغتسال به، وحلالٌ أَكْل ما يَخرج منه من أسماك وحِيْتان وغيرِها، ولو وُجِدَت ميتةً قد طَفَتْ على ظهره من غير صيد.

  • مَيتةُ حيوان البحر حلال، والمراد بميتته: ما مات فيه من دَوَابِّه مما لا يعيش إلا فيه.
  • إجابة السائل بأكثر مما سأل تتميمًا للفائدة.
  • الماء إذا تَغَيَّرَ طَعْمُه أو لونُه أو ريحُه بشيء طاهر، فهو باقٍ على طُهُوْرِيَّتِه ما دام ماءً باقيًا على حقيقتِه، ولو اشتدَّت مُلُوْحَتُهُ أو حرارتُه أو بُرودتُه ونحوُها.
  • ماء البحر يَرفَع الحَدَثَ الأكبرَ والأصغر، ويُزِيْل النجاسة الطارئة على طاهر، مِن بَدَنٍ، أو ثَوب، أو غير ذلك.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید