ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن العالية بنت سُبَيع قالت: كان لي غنم بأُحُدٍ، فوقَع فيها الموت، فدَخَلْتُ على ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم ، فذَكَرْتُ ذلك لها، فقالت لي ميمونة: لو أَخَذْتِ جُلُوَدها فَانْتَفَعْتِ بها. فقالت: َأو يَحِلُّ ذلك؟ قالت: نعم، مرَّ على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم مثل الحمار، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لو أخذتم إِهَابَهَا». قالوا: إنها مَيْتَة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «يُطَهِّرها الماء والقَرَظ».
ترجمہ
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیتی تو ان سے فائدہ اٹھاسکتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ گدھے کی طرح ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“، انھوں نے کہا: یہ مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے) پاک کر دیتا ہے۔“
تشریح
عالیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“
تشریح: العربية
تخبر العالية بنت سُبَيع -رحمها الله- أنه كان لها غنم وقع فيها الموت بسبب المرض أو غير ذلك، ثم إنها ذهبت وأخبرت ميمونة رضي الله عنها فأشارت عليها بالانتفاع بجلودها. فقالت: وهل يجوز الانتفاع بجلودها بعد موتها؟ قالت: نعم يجوز ذلك، ثم إنها استدلت لقولها بقصة مشابهة قد وقعت، وهي: أن النبي صلى الله عليه وسلم : مرَّ عليه رجال من قريش يَجُرُّون شاة لهم كَجَرِّ الحمار لإبعادها والتخلص منها، أو أنها كالحمار في ضخامتها. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم : لو انتفعتم به بدلًا من أن يرمى. فقالوا: إنها مَيْتَة، وكأنهم ظنوا أن الرسول صلى الله عليه وسلم لا يدري أنها ميتة، وهم يعرفون أن الميتة حرام بجميع أجزائها لنجاستها. فأخبرهم الرسول صلى الله عليه وسلم أن دبَاغها بالماء والقَرظ يجعل من هذه المادة النجسة مادة طاهرة.
- يجوز استعمال جلد الميتة المدبوغ في اليابسات والمائعات، ويجوز لبسه وافتراشه وغير ذلك من الاستعمالات، كما أنَّه ذو قيمة مالية، فيجوز التصرف فيه بأنواع التصرفات من بيعٍ وغيره.
- أن جلد الشَّاة الميتة يطهر بالدِّبَاغ، ومثل الشاة غيرها من الحيوانات الحلال أكلها.
- يجوز الدباغ بكل شيءٍ ينشف فضلات الجلد، ويطيبه ويزيل عنه النتن والفساد، سواءٌ كان من القَرَظ، أو قشور الرُّمَّان، أو غيرهما من المنقيات الطاهرات، ولا يشترط الماء.