حدیث

اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنے بیٹے ہونے کی) نسبت کرے یا (جو غلام) اسے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے؛ انھیں ناپسند کرتے ہوئے، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا اور نہ فرض۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عمرو بن خارجة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وسلم خطب على ناقته وأنا تحت جِرَانِها وهي تَقْصَع بِجِرَّتِها، وإن لُعابها يَسِيل بين كتفيَّ فسمعتُه يقول: «إن الله أعطى كلِّ ذي حقٍّ حقَّه، ولا وصيَّةَ لِوارث، والولَد لِلْفِراش، وللعاهِرِ الحَجَر، ومن ادَّعى إلى غير أبِيهِ أو انْتمى إلى غير مَوَاليه رغبةً عنهم فعَلِيه لعنةُ الله، لا يَقْبَلُ الله منه صَرْفا ولا عَدْلا».

ترجمہ

عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کاندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنے بیٹے ہونے کی) نسبت کرے یا (جو غلام) اسے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے؛ انھیں ناپسند کرتے ہوئے، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا اور نہ فرض“۔

تشریح

عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب موجود تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ،اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور اس اونٹنی کا لعاب بہتے ہوئے عمرو کے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس خطبے میں کچھ احکام کی وضاحت فرمائی،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اور اس کے حق میں پہنچنے والے فرض کردہ حصے اور متعین مقدار کو واضح کردیاہے؛ لہٰذا وارث کے لیے وصیت کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بیان کیا کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ بستر والے کا ہوگا؛ لہٰذا اس بچے کی نسبت بستر والے کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کی جائے گی، چاہے وہ صاحب فراش شوہر ہو یا مالک۔ زانی کو بچے کی نسبت اپنی طرف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی بدکاری کے نتیجے میں اس کے حق میں رسوائی و نامرادی ہے اور اس پر حد جاری کیے جانے کا حکم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی حرمت بیان فرمائی کہ کوئی انسان خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا غلام اپنی نسبت، اس کو آزاد کرنے والے مالکان کے علاوہ کسی اور کی جانب کرے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ غیر باپ کی طرف انتساب کرنا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، یا غلام کا اسے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی جانب منسوب ہونا، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اللہ جل و علا کی ذات ایسے شخص کی کوئی فرض اور نفل نیکی نہیں قبول فرمائے گی۔

تشریح: العربية

يذكر عمرو بن خارجة رضي الله عنه أنه كان مع النبي صلى الله عليه وسلم قريبًا منه، فخطب -عليه الصلاة والسلام- الناس وهو على ناقته، ولعابها يسيل بين كتفي عمرو، وذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم بيّن -في خطبته هذه- جملة من الأحكام، منها أن الله تعالى قد أعطى كل ذي حق حقه، وبيَّن له حظه ونصيبه الذي فُرض له فلا تجوز الوصية للوارث، ثم بيَّن أن الولد للفراش، فلا ينسب إلا إلى صاحب الفراش، سواء كان زوجًا أو سيدًا، وليس للزاني في نسبةٍ حظٌّ، إنما الذي جُعل له من فعله الخيبة، واستحقاق الحد، ثم بين حرمة انتساب الإنسان لغير أبيه، أو انتساب المولى المعتَق لغير مواليه الذين أعتقوه، ووضح أن من انتسب إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه استوجب اللعن من الله تعالى ، وأنه جل وعلا لا يقبل منه فرضًا ولا نفلًا.

  • طهارة لعاب البعير، وأنَّه ليس بنجس.
  • أن حكم بهيمة الأنعام وغيرها من الحيوانات الطاهرة في حال الحياة مثل حكم البعير في طهارة لعابها وما يخرج منها.
  • أن الولد للفراش, فلا ينسب إلا إلى صاحب الفراش، سواء كان زوجاً أو سيداً، أو واطئ شبهة، وليس للزاني في نسبةٍ حظٌّ, إنما الذي له استحقاق الحد.
  • منع الوصية للوارث, وتبطل من أجل حقوق سائر الورثة, فإن أجازوها جازت كما إذا أجازوا الزيادة على الثلث.
  • تحريم الانتساب إلى غير الأب أو المولى، وأن ذلك يوجب اللعن ورد العمل.
  • جواز الخُطْبة والموعظة على الرَّاحلة.
  • استحباب الخطب والمواعظ على الأمكنة العالية؛ لأنَّه أبلغ في الإعلام والإفهام، ويحصل به المقصود.
  • استحباب الخطبة ثاني أيام التشريق بمِنًى من ولي أمر المسلمين أو نائبه؛ ليعلم النَّاس بقيَّة أحكام المناسك ووداع البيت؛ فقد كانت هذه الخطبة منه -صلى الله عليه وسلم- في ذلك اليوم كما ورد في الروايات الأخرى للحديث.
  • جواز جعل الخطيب من يساعده في مهمته تحته في إبلاغ خطبته، وتوجيه النَّاس أو تسكيتهم أو ترتيبهم، ولا يعتبر هذا من التعالي والكبرياء.
  • حرص الصحابة على القرب من النبي -صلى الله عليه وسلم- والأخذ عنه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید