حدیث

لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي السَّمْح قال: كنت أخْدُم النبي صلى الله عليه وسلم ، فكان إذا أراد أن يغتسل قال: «وَلِّني قَفَاك». فأوَلِّيه قَفَايَ فأَسْتُره به، فأُتِيَ بحسن أو حسين رضي الله عنهما فَبَال على صدره فجئتُ أغسله فقال: «يُغسَلُ مِنْ بوْل الجاريَة، ويُرَشُّ مِنْ بوْل الغُلام».

ترجمہ

ابو سمح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا۔ جب آپ ﷺ غسل کرنا چاہتے، تو مجھ سے فرماتے کہ تم اپنی پیٹھ میری جانب کر دو، چنانچہ میں چہرہ پھیر کر اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے آپ پر آڑ کئے رہتا۔ (ایک مرتبہ) حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا، تو انھوں نے آپ ﷺ کے سینے پر پیشاب کر دیا۔ میں اسے دھونے کے لیے بڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے“۔

تشریح

ابو سمح رضی اللہ عنہ اس حدیث میں اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور جب کبھی آپ ﷺ غسل کا ارادہ فرماتے، تو ابو سمح کو ہدایت دیتے کہ وہ اپنی پیٹھ آپ ﷺ کی جانب کر کے کھڑے ہوجائیں اور ابو سمح اپنے جسم کے ذریعے نبی ﷺ کو یوں آڑ میں لے کر کھڑے ہوجاتے کہ ان کی پشت نبی ﷺ سے قریب ہوتی۔ اس طرح آپ ﷺ کا لوگوں سے اور خود سے ستر فرماتے۔ انھوں نے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جو ان کی موجودگی میں نبی ﷺ کے ساتھ پیش آیا کہ آپ کی خدمت میں حسن یا حسین رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور انھوں نے آپ کے سینے کی جگہ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۔ لیکن جب ابو سمح رضی اللہ عنہ نے اس کو دھونا چاہا، تو آپ ﷺ نے ان سے اس مسئلے کی بابت وضاحت فرمائی کہ تاحال کھانا کھانا شروع نہ کرنے والے دودھ پیتے بچے کے پیشاب کی پاکی کے لیے (اگر وہ کپڑوں کو لگ جائے) بس اتنا کافی ہے کہ جہاں پیشاب لگا ہو ،اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا جائے، اسے دھونا واجب نہیں۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کو کپڑوں سے دھونا واجب ہے؛ چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔ لڑکا اور لڑکی کے مابین کیے گئے فرق کی وجوہات کے تئیں اہل علم کا کہنہا ہے کہ نرینہ اولاد کو مرد اور خواتین بکثرت اٹھائے پھرتے ہیں، جس کی بنا پر اس کے پیشاب کی وجہ سے ہونے والی مشقت بہت عام ہوتی ہے اور اس طرح اسے دھونا دشواری کا باعث ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے پیشاب کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ اسی طرح لڑکے کے پیشاب کے بالمقابل، لڑکی کے پیشاب میں گندگی اور بدبو کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے؛ کیوں کہ بچے کے پیشاب میں حرارت اور لڑکی کے پیشاب میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا حرارت، پیشاب کی بدبو کے اثرات کی شدت کو گھٹا دیتی ہے اور پیشاب سے اس چیز کو تحلیل کردیتی ہے، جو رطوبت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ لڑکا اور لڑکی کے پیشاب میں جو فرق ہے اس کے متعلق یہ کچھ حکمتیں ہیں جنہیں علماء کرام نے بیان کی ہیں، اگر یہ صحیح ہیں تو بہت ہی معقول حکمتیں ہیں اس لیے کہ فرق بلکل واضح ہے، اور اگر یہ حکمتیں صحیح نہیں ہیں تو اس حکم میں اصل حکمت تو ہے ہی، یعنی کہ یہ اللہ تعالی کا حُکم ہے، اور ہم یہ یقینی طور پر جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت ہی عین حکمت ہے، یقینا شریعت بظاہر ایک جیسی دو چیزوں کے درمیان فرق نہیں کرتی مگر یہ کہ حقیقی معنوں میں ان میں فرق موجود ہو، اسی طرح شریعت کسی دو چیزوں کو جمع نہیں کرتی مگر یہ کہ ان کو جمع کرنا ہی حکمت کا عین تقاضہ ہو۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالی کے احکام مصلحت کے عین موافق ہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ مصلحتیں کبھی ظاہر ہو جاتی ہیں تو کبھی مخفی رہتی ہیں۔

تشریح: العربية

يذكر أبو السمح رضي الله عنه أنه كان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم ، وأنه -عليه الصلاة والسلام- ربما أراد أن يغتسل فيطلب من أبي السمح أن يوليه ظهره، فكان يستر النبي صلى الله عليه وسلم بجسمه بحيث يجعل ظهره مما يلي النبي صلى الله عليه وسلم فيستره عن الناس وعن نفسه، ثم ذكر حادثة وقعت له مع النبي صلى الله عليه وسلم ، حيث أتي بالحسن أو الحسين فبال على ثياب النبي صلى الله عليه وسلم من جهة صدره، فأراد أبو السمح أن يغسله، فبيَّن له النبي صلى الله عليه وسلم أن بول الرضيع الذي لم يأكل الطعام يكفي في تطهيره -إن أصاب الثوب- أن يُرش بالماء رشّا يعم مكان البول، ولا يجب غسله، بخلاف بول الجارية فالواجب غسل الثوب منه، ولو كانت رضيعة، ومما ذكره أهل العلم من وجوه الفرق بين الصبي والصبية: - كثرة حمل الرجال والنساء للطفل الذكر، فتعم البلوى ببوله فيشق غسله. - أن بوله يخرج بقوة وشدة دفع، فينتشر وتكثر الإصابة منه، فيشق غسل ما أصابه كله، بخلاف بول الأنثى. - أن بول الأنثى أخبث وأنتن من بول الذكر، وسببه حرارة الذكر، ورطوبة الأنثى، فالحرارة تخفف من نتن البول، وتذيب منها ما يحصل مع الرطوبة. هذه من الحِكَمِ التي تلمَّسها العلماء للفرق بين بول الغلام وبين بول الجارية، فإنْ صحَّتْ، فهي حِكَمٌ معقولة؛ لأنَّها فروق واضحة، وإنْ لم تصح فالحكمة هي حُكْمُ الله تعالى؛ فإنَّنا نعلم يقينا أنَّ شرع الله هو الحكمة؛ فانَّ الشرع لا يفرِّقُ بين شيئين متماثلين في الظاهر، إلاَّ والحكمة تقتضي التفريق، ولا يجمع بينهما إلاَّ والحكمة تقتضي الجمع؛ لأنَّ أحكام الله لا تكون إلاَّ وفق المصلحة؛ ولكن قَدْ تظهر وقد لا تظهر.

  • أن بول البنت نجس كغيره من النجاسات، ولو كانت في سن الرضاع, فيغسل منه الثوب وغيره إذا أصابه؛ كما يغسل من سائر النجاسات.
  • بول الغلام الذي لم يأكل الطعام لشهوة: نجس؛ ولكن نجاسته أخفُّ نجاسةً من بول البنت.
  • يكفي في تطهير ما أصابه بولُ الغلام الذي لم يأكل الطعام لشهوة: رشُّه بالماء فقط، دون غسله.
  • أنَّ الأصل في أحكام الغلام والجارية أنهما سواء؛ فتفريق السنة بينهما في البول دليل على أنَّ ما عداهما باقٍ على الأصل.
  • أن المشقة تجلب التيسير, فلما كان الغلام عادةً أَرغَبَ عند أهله من الجارية؛ فيكثر حمله وتكثر إصابة حامله ببوله، فمن باب التيسير خفف في غسل نجاسة بوله.
  • أن العذرة (وهو الغائط) من الغلام والجارية على حد سواء؛ لأن التفريق إنما كان في البول فقط, فتبقى العذرة على ما هي عليه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید