حدیث

جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ)وہ یہی ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبْدِ خيْرٍقال: أتانا علي رضي الله عنه وقد صلَّى فدعا بطَهور، فقلنا ما يصنع بالطَّهور وقد صلَّى ما يُريد، إلا ليعلِّمَنا، فأُتِي بإناء فيه ماء وطَسْت، فأفْرَغَ من الإناء على يمينه، فغسل يديه ثلاثا، ثم تَمَضْمَضَ واسْتَنْثَر ثلاثا، فمَضْمَض ونَثَرَ من الكفِّ الذي يأخُذ فِيه، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يده اليمنى ثلاثا، وغسل يده الشِّمال ثلاثا، ثم جعل يده في الإناء فمسَحَ بِرأسه مرَّة واحدة، ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا، ورِجْلَه الشمال ثلاثا. ثم قال: «مَنْ سرَّه أن يعْلَم وُضُوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو هذا».

ترجمہ

عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نماز پڑھ چکے تھے،(پھر بھی) وضو کا پانی منگوایا، تو ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا: آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، جب کہ آپ نماز پڑھ چکے ہیں ؟ شاید آپ ہمیں وضو کا طریقہ سکھانا چاہتے ہوں گے! خیر پانی بھرا ہوا ایک برتن اور ایک طشت لایا گیا۔ آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی؛ آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے۔ پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا۔ پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا۔ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اوراپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا۔ پھر فرمایا: ”جس شخص کو اس بات سے خوشی و مسرت ہو کہ اسے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے، تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے“۔

تشریح

اس پوری حدیث میں نبی ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ عبد خیر اس بات کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر لینے کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور پانی منگوایا۔ حاضرین کو یہ امر عجیب لگا کہ نماز پڑھ لینے کے باوجود آپ پانی طلب فرمارہے ہیں۔ پھر وہ خود جان گئے کہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں نبی ﷺ کے وضو طریقہ سکھانا چاہتے ہیں۔چنانچہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پانی سے بھرا برتن لاکر دیا۔ انھوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر برتن سے پانی انڈیلتے ہوئے اس کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی۔ ایک چلو پانی ہی سے کلی کی اور ناک بھی جھاڑی۔ پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا۔ چہرے کے حدود میں سر کے بالوں کے آغاز سے لے کر داڑھی کے ظاہری حصے کے ساتھ ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک کا حصہ آتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ اپنا دایاں اور بایاں ہاتھ کہنیوں تک دھویا۔ دونوں ہاتھوں کے دھونے میں کہنیاں شامل ہیں۔ پھر ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح فرمایا۔ پھر اپنا دایاں اور بایاں پاؤں تین تین مرتبہ دھویا۔ بعد ازاں علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا وضو ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔

تشریح: العربية

هذا الحديث بطوله بين صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم ، يذكر فيه عبد خير، أن عليا رضي الله عنه أتاهم بعدما صلى، فدعا بماء، فاستغربوا طلبه هذا لكونه قد صلى، ثم عرفوا أنه أراد أن يعلّمهم صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم ، فجاؤوه بماء في إناء، فصب من الإناء على يمينه فغسل يديه ثلاث مرات، ثم تمضمض واستنثر ثلاث مرات، يمضمض ويستنثر من نفس الكف الذي يأخذ منه الماء، ثم غسل وجهه ثلاث مرات، وحدود الوجه من منابت شعر الرأس المعتاد إلى الذقن مع ظاهر اللحية، ومن الأذن إلى الأذن، ثم يغسل يده اليمنى إلى المرفقين ثلاث مرات، ثم اليسرى كذلك، والمرفقان داخلان في الغسل، ثم مسح رأسه مرة واحدة، ثم غسل رجله اليُمنى ثلاث مرات، ثم رجله اليسرى ثلاث مرات، ثم ذكر أن هذا هو وُضوء رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-.

  • حرص الصحابة على نشر العلم وتبليغ أحكام الدين.
  • التعليم بالفعل, والوصف بالفعل أسرع إدراكا, وأدق تصويرا, وأرسخ في النفس, ويستفاد من ذلك أنه ينبغي للمعلم أن يسلك أقرب الطرق لإيصال المعلومات إلى أذهان الطلاب.
  • جواز الاستعانة في إحضار ماء الوضوء.
  • مشروعية الوضوء على الصفة الواردة في هذا الحديث.
  • سنية غسل الكفين ثلاث مرات في بداية الوضوء.
  • أن الواجب في مسح الرأس مرة واحدة لا يزيد عليها, ومشروعية التثليث في بقية الأعضاء المغسولة.
  • الحكمة في مسح الرأس مرَّة واحدة، وكونه لا يُكَرَّر، كما يكرر الغسل؛ لأنَّ المسح أخف من الغسل، مخففٌ في كيفيته وفي كميته، ولعلَّ الحكمة الرَّبَّانيَّة في التخفيف في الرأس، من كونه يمسح مسحًا ولا يغسل، وأن مسحه مرَّة واحدة فلا يكرر، هو التيسير على الأمة؛ فإنَّ الرَّأس موطن الشعر، فصَبُّ الماء عليه وتكريره، رُبَّما سبَّب أذيَّةً ومرضًا، فخفَّف الله -تعالى- عن عباده.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید