حدیث

ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيح بشواهدهرواه مسلم

عربی متن

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قال: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ» فَرَجَعَ، ثُمَّ صَلَّى.

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتا یا: ایک شخص نے وضو کیا اور پیر میں ناخن کے برابر جگہ سوکھی چھوڑ دی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے دیکھا تو فرمایا : "جاؤ اور اچھی طرح وضو کر لو۔" لہذا وہ واپس گیا اور پھر سے نماز پڑھی۔

تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ ایک شخص پورا وضو کر چکا ہے، لیکن اس کے قدم پر ایک ناخن کے برابر جگہ سوکھی رہ گئی ہے، جہاں وضو کا پانی پہنچا نہیں ہے۔ لہذا آپ نے وضو میں رہ جانے والی کمی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ واپس جاؤ، وضو اچھی طرح اور مکمل انداز میں کرو اور سارے اعضائے وضو تک پانی پہنچاؤ۔ چنانچہ وہ شخص واپس گیا، مکمل وضو کیا اور اس کے بعد نماز پڑھی۔

فوائد

  • اچھے کام کا حکم دینے اور جاہل و غافل کی رہ نمائی کرنے میں جلدی کرنے کی ضرورت۔ خاص طور سے اس وقت، جب منکر کے نتیجے میں انسان کی عبادت ضائع ہو جائے۔
  • وضو کے اعضا کو پورا پورا دھونا ضروری ہے۔ جس نے کسی عضو کے تھوڑے سے حصے کو بھی سوکھا رہنے دیا، اس کا وضو نہیں ہوگا اور زیادہ وقت گزر جانے پر وضو از سر نو دوبارہ کرنا پڑے گا۔
  • اچھی طرح وضو کرنے کی مشروعیت۔ اچھی طرح وضو کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اعضا کو مکمل اور پورے طور اسی طرح دھویا جائے، جس طرح شریعت نے حکم دیا ہے۔
  • دونوں قدم اعضائے وضو میں داخل ہیں۔ ان کا مسح کر لینا کافی نہيں ہے۔ دھونا ضروری ہے۔
  • وضو کے اعضا کو اس طرح لگاتار دھونا چاہیے کہ ہر عضو کو اس سے پہلے والے عضو کے خشک ہونے سے پہلے دھو لیا جائے۔
  • عدم واقفیت یا بھول جانے کی وجہ سے کوئی واجب ساقط نہیں ہوتا۔ بس اتنا ہوتا ہے کہ انسان پر گناہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس شخص نے عدم واقفیت کی بنا پر مکمل وضو نہیں کیا، تو آپ نے اس سے واجب یعنی وضو کو ساقط نہیں کیا، بلکہ اسے دوبارہ وضو کرلینے کا حکم دیا۔
تشریح: العربية

أَخْبَرَ عُمَرُ رضي الله عنه أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم أَبْصَرَ رَجلًا انتهى مِن وضوئه، فتَرَكَ قَدْرَ ظُفرٍ في قَدَمه لم يُصِبْهُ ماءُ الوضوء، فقال له مشيرًا إلى موضع التقصير: ارجع فأحسن وضوءك وأَتِمَّه وأعْطِ كلَّ عُضوٍ حقَّه من الماء، فرجع الرجل فأتمّ وضوءه ثم صلى.

  • وجوبُ المبَادَرة إلى الأمرِ بالمعروف، وإرشادِ الجاهلِ والغَافل، وخصوصًا إذا كان المُنكَر يترتَّب عليه فسادُ عبادته.
  • وجوب تعميم أعضاء الوضوء بالماء، وأنَّ من ترك جزءًا من العضو -ولو يسيرًا- لم يصحّ معه الوضوء ولزمته الإعادة إذا كان الفاصل طويلًا.
  • مشروعية إحسان الوضوء، وذلك بإتمامه وإسْبَاغه على الوجه المأمور به شرعًا.
  • القدمان من أعضاء الوضوء، ولا يكفي فيهما المسح، بل لابدَّ من الغسل.
  • ينبغي الموالاة بين أعضاء الوضوء، بحيث يَغسل كلَّ عضو قبل أن يَجِفَّ الذي قبله.
  • الجهل والنسيان لا يُسقِطان الواجبَ، وإنما يُسقِطان الإثمَ، فهذا الرجل الذي لم يُسْبِغ وضوءه لجهله لم يُسقِط عنه النبيُّ صلى الله عليه وسلم الواجبَ، وهو الوضوء، وإنما أمره أن يعيدَه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید