ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ، أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ، بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک پانی سے نہا لیا کرتے تھے اور ایک مد پانی سے وضو کر لیا کرتھے تھے۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غسل جنابت ایک صاع سے پانچ مد تک پانی سے کیا کرتے تھے۔ جب کہ وضو ایک مد پانی سے کیا کرتے تھے۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے۔ جب کہ ایک مد معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر کا ہوا کرتا ہے۔
فوائد
- یہ حدیث وضو اور غسل کرتے وقت پانی بچانے اور اسراف سے بچنے کی مشروعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، چاہے پانی میسر ہی کیوں نہ ہو۔
- مستحب یہ ہے کہ وضو اور غسل کرتے وقت پانی بقدر حاجت اور کم سے کم استعمال کیا جائے۔ یہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے۔
- اس حدیث کا مقصد وضو اور غسل کی سنتوں اور آداب کا خیال رکھتے ہوئے، پانی کے استعمال میں فضول خرچی اور کنجوسی کیے بغیر، وقت اور پانی کی کثرت وقلت کو دھیان میں رکھتے ہوئے مکمل طور سے وضو اور غسل کرنا ہے۔
- جنابت کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوتا ہے، جس نے منی کا انزال یا جماع کیا ہو۔ جنابت کو جنابت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس حالت میں انسان پاک ہو جانے تک نماز اور عبادتوں سے دور رہتا ہے۔
- صاع ناپنے کا ایک معروف آلہ ہے۔ یہاں مراد صاع نبوی ہے۔ اس کا وزن عمدہ قسم کے گیہوں کا 480 مثقال اور لیٹر میں تین لیٹر ہے۔
- مد ایک شرعی ماپ ہے۔ اس سے مراد ایک معتدل جسم والے انسان کی دونوں ہتھیلیوں بھر ہے، جب ان کو بھر کر ہاتھ پھیلا دیا جائے۔ مد ایک چوتھائی صاع ہے، اس پر تمام فقہا متفق ہیں۔ اس کی مقدار 750 ملی لیٹر ہوا کرتی ہے۔
تشریح: العربية
كان النبي صلى الله عليه وسلم يغتسل من الجنابة بالصاع إلى خمسة أمداد، ويتوضأ بالمد. والصاع: أربعة أمداد، والمد: مِقْدار ملء كفَّي إنسانٍ مُعتدلِ الخِلْقة.
- مشروعية الاقتصاد في ماء الوضوء والغسل، وعدم الإسراف ولو كان الماء مُتيسرًا.
- استحباب التقليل في ماء الوضوء والغسل بقدر الحاجة، وأن هذا هو هدي النبي صلى الله عليه وسلم.
- المقصود الاستيفاء في الوضوء والغسل مع مراعاة السنن والآداب بلا إسراف ولا تقتير ويراعى الوقت وكثرة الماء وقلته وغير ذلك.
- تطلق الجنابة على كل من أنزل المني أو جامع، وسميت بذلك لاجتناب صاحبها الصلاة والعبادات حتى يطهر منها.
- الصاع: مكيال معروف، والمراد به الصاع النبوي، ويبلغ وزنه (480) مثقالاً من البر الجيد، وباللتر (3 لترات).
- المد: وحدةُ كيلٍ شرعية، وهي ملء كفي الإنسان المعتدل إذا ملأهما ومد يده بهما، والمد ربع الصاع باتفاق الفقهاء، ومقداره (750) ملل.