حدیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد خير، عن علي رضي الله عنه ، قال: لو كان الدين بالرأي لكان أسفل الخُفِّ أولى بالمسح من أعلاه، وقد «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على ظَاهر خُفَيْهِ».

ترجمہ

عبد بن خیر علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے کہا اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

تشریح

علی رضی الله عنہ خبر دے رہے ہیں کہ اگر دین وحی کو چھوڑ کر عقل اور رائے سے لیا جاتا تو موزوں کے نیچے والے حصے پر مسح کرنا اوپری حصہ سے اَوْلیٰ ہوتا کیونکہ موزے کے نیچے کا حصہ زمین اور گندگیوں سے ملا ہوا رہتا ہے چنانچہ عقلی طور پر یہ مسح کا زیادہ حقدار ہے، لیکن شریعت نے اس کے خلاف حکم دیا ہے، لہذا شریعت پر عمل کرنا ضروری ہے اور وہ رائے اور نظریہ جو نصوصِ شرعیہ کے مخالف ہو اسے ترک کرنا ضروی ہے اور یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے دیکھا ہے۔ (اگر دیکھا جائے تو) رسول اللہ ﷺ نے جو کیا وہ دوسرے ناحیہ سے عقل کے عین موافق ہے کیونکہ جب موزوں کے نچلے حصہ کو پانی سے مسح کیا جائے تو وہ نجاست کے لگ جانے کا سبب بنتا ہے چنانچہ اوپری حصہ پر مسح کرنے کا حکم دیا تاکہ اوپری حصہ میں جو گرد وغبار ہے زائل ہو جائے، اور چونکہ موزے کے اوپر والا حصہ ہی نظر آتا ہے اسی بنا پر موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کرنا اولی ہے اور شریعت کے جتنے بھی احکام ہیں وہ عقل سلیم کے مخالف نہیں ہوتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ عقل والوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہیں۔

تشریح: العربية

يخبر علي رضي الله عنه أنه لو كان الدين يؤخذ بالعقل دون النقل، لكان أسفل الخف أولى بالمسح من أعلاه؛ لأن أسفل الخف يباشر الأرض والقاذورات والأوساخ، فهو أولى بالمسح من ناحية العقل ولكن الشرع جاء بخلاف ذلك، فلزم العمل به وترك الرأي المخالف للنصوص، وأنه قد رأى النبي صلى الله عليه وسلم يمسح أعلى الخفِّ، وما فعله النبي صلى الله عليه وسلم موافق للعقل من جهة أخرى؛ لأنه إذا مسح أسفل الخف بالماء تسبِّب في حمله للنجاسة، فجعل المسح أعلاه ليزيل ما علق به من غبار؛ لأنَّ ظاهر الخف هو الذي يُرَى، فكان مسحه أولى، وكل الأحكام الشرعية لا تخالف العقول السليمة، لكنها في بعض الأحيان قد تخفى على بعض أصحاب العقول.

  • بيان موضع المسح من الخف ونحوه وأنه أعلى الخف.
  • وجوبُ كون المسح على أعلى الخف، أما أسفله فلا يجزئ مسحه.
  • لا يشرع مسح أسفل الخف أو جوانبه؛ لأن الدِّين مبناه على النَّقْلِ عن الله تعالى، أو عن رسوله -صلى الله عليه وسلم-، وليس الرأي هو المُحْكَمَ فيه، فالواجبُ الاتباعُ، لا الابتداع.
  • الذي يتبادر للذِّهْن هو أنَّ الأولى بالمسح هو أسفل الخف، لا أعلاه؛ لأنَّ الأسفل هو الذي يباشر الأرض، وربمَّا أصابته النجاسة، فكان أولى بالإزالة، ولكن الواجب تقديمُ النَّقل الصحيحِ على الرأي.
  • أن ما فعله النبي -صلى الله عليه وسلم- موافق للعقل من جهة أخرى؛ لأنه إذا مسح أسفل الخف بالماء تسبِّب في حمله للنجاسة، فجعل المسح أعلاه ليزيل ما علق به من غبار؛ لأنَّ ظاهر الخف هو الذي يُرَى، فكان مسحه أولى، وكل الأحكام الشرعية لا تخالف العقول السليمة، لكنها في بعض الأحيان قد تخفى على بعض أصحاب العقول.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید