ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ وَلَبِسَ خُفَّيْهِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، وَلْيَمْسَحْ عَلَيْهِمَا ثُمَّ لَا يَخْلَعْهُمَا إِنْ شَاءَ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ».
ترجمہ
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور (اس کے بعد) موزے پہنے، تو ان کو پہن کر نماز پڑھے اور ان پر مسح کرے اور چاہے تو انہیں جنابت لاحق ہونے کے علاوہ کسی صورت میں نہ اتارے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب کوئی مسلمان وضو کرنے کے بعد موزے پہنے اور اس کے بعد وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے دوبارہ وضو کرنا چاہے، تو اسے اس بات کی اجازت ہے کہ ایک متعینہ مدت تک موزوں کو اتارنے کی بجائے ان پر مسح کر لے۔ البتہ جنبی ہو جانے کی صورت میں موزے اتار کر غسل کرنا پڑے گا۔
فوائد
- موزوں پر مسح اسی صورت میں جائز ہے، جب ان کو مکمل طہارت کے بعد پہنا جائے۔
- مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے اور مسافر کے لیے تین دن تین رات۔
- موزوں پر مسح صرف چھوٹی نجاست کے لیے خاص ہے، بڑی نجاست کے لیے نہیں۔ بڑی نجاست کے وقت موزوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ اس حالت میں موزوں کو اتار کر پاؤں دھونا ضروری ہے۔ کیوں کہ اس حديث میں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: "ما سوا اس کے کہ اسے جنابت لاحق ہو جائے۔"
- یہودیوں کی مخالفت کے طور پر جوتا اور موزہ پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب دونوں پاک ہوں اور اس سے مصلیوں کو اذیت یا مسجد گندی نہ ہوتی ہو۔ مثلا فرش والی مسجدوں میں جوتا پہن کر نماز نہيں پڑھی جائے گی۔
- موزوں پر مسح دراصل اس امت کے لیے آسانی پیدا کرنے اور اس کا بوجھ ہلکا کرنے کی ایک صورت ہے۔
تشریح: العربية
يُبَيِّنُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه إذا لَبِسَ المُسلِمُ خُفَّيْه بعد أنْ تَوَضأ، ثم أَحْدَث بعد ذلك وأراد الوضوء، فله المَسْحُ عليهما إن أراد ذلك، ويصلي فيهما ولا يَنزعهما مدة معلومة، إلا إذا أَجْنَبَ لزِمَه خَلعُ الخُفِّ والاغتسال.
- لا يجوز المَسحُ على الخُفَّين إلا إذا لُبسَا بعد كمال الطهارة.
- مدة المسح للمقيم: المسحُ يومًا وليلةً، وللمسافر: ثلاثةَ أيام بلياليها.
- المسح على الخفين يَخْتَصُّ بالحَدَث الأصغر لا الأكبر، أما الحدث الأكبر فلا يجوز المسح معه، بل لابد من خَلْع الخُفّين وغسل القدمين.
- يستحَب الصلاة في الحذاء والخفّ ونحوِهما مخالفةً لليهود وذلك إذا كانت طهارة، وليس فيها أذية للمصلين، أو للمسجد مثل المساجد المفروشة فلا يصل بها.
- المسح على الخفين فيه تيسير وتخفيف على هذه الأُمَّة.