ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عروة قال: دخلت على مروان بن الحكم فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء، فقال مروان: ومن مَسِّ الذَّكَر؟ فقال عروة: ما علمت ذلك، فقال مروان: أخبرتني بُسْرَة بنت صفوان، أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ».
ترجمہ
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مروان بن حکم کے پاس آیا۔ جن وجوہات کی بنا پر وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے بارے میں ہمارے مابین گفتگو ہوئی۔ مروان نے پوچھا کہ کیا آلۂ تناسل کو چھونے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے؟۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وہ وضو کرے۔
تشریح
حدیث کا مفہوم: عروہ رحمہ اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ مروان بن حکم کے پاس گئے جو اس وقت مدینہ کے گورنر تھے۔ ”فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ“ یعنی ہمارے مابین ان باتوں اور اشیاء کے بارے میں گفتگو اور بحث چل نکلی جن کی وجہ سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا کہ ”ومِنْ مَسِّ الذَّكَر“ یعنی جن چیزوں کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے ایک آلہ تناسل کو چھونا بھی ہے۔ عروہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ“ یعنی مجھے اس کی دلیل کا علم نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مروی کوئی حدیث میرے پاس ہے۔ اس پر مروان نے کہا کہ مجھے بُسْرَہ بنت صفوان نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”جو اپنے آلۂ تناسل کو چھوئے اسے چاہیے کہ وہ دوبارہ وضو کرے“۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ ”وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ وہ وضوء نہ کرلے“۔ یہ روایت تو اس بات کی کھلی وضاحت ہے کہ آلۂ تناسل کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے چاہے شہوت کے ساتھ چھوا جائے یا پھر بغیر شہوت کے ساتھ اور چاہے اس شخص نے چھونے کا ارادہ کیا ہو یا ارادہ نہ کیا ہو۔ تاہم اس سلسلے میں شرط یہ ہے کہ یہ چھونا براہ راست ہو اور درمیان میں کوئی شے حائل نہ ہو۔ اگر درمیان میں کوئی شے حائل ہو تو پھر چھونے سے کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ اب درحقیقت مس ہوا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایک عضو براہ راست دوسرے عضو کے ساتھ لگے۔ اس پر نسائی کی روایت کردہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے ” إذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إلَى فَرْجِهِ وَلَيْسَ بَيْنَها سِتْرٌ وَلَا حَائِلٌ فَلْيَتَوَضَّأْ“ یعنی جب تم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو اس طرح سے ہاتھ لگا لے کہ درمیان میں کوئی پردہ یا آڑ نہ ہو تو اسے چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔
تشریح: العربية
معنى الحديث: يخبر عروة رحمه الله أنه دخل على مروان بن الحكم وكان أميرا على المدينة في ذلك الوقت "فذَكَرْنا ما يكون منه الوضوء" أي تذاكرنا وبحثنا في نواقض الوضوء والأشياء التي ينتقض بها الوضوء، فقال مروان: "ومِنْ مَسِّ الذَّكَر" يعني: ومما يحصل به نقض الوضوء مَسّ الذَّكَر، فقال عروة: "ما علمت ذلك"، يعني: ما أعلم دليلا، وليس عندي علم في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال مروان: حدثتني بُسْرَة بِنْتُ صفوان رضي الله عنها أن النبي - صلى الله عليه وسلم قال: (مَنْ مَسَّ ذَكَرَه فليتوضأ). وفي رواية الترمذي: "فلا يصَلِ حتى يتوضأ" وهذه الرواية نصٌ في أن مَسَّ الذَّكَر ناقضٌ للوضوء سواء كان لشهوة أو لغير شهوة وسواء قصد مسه أو لم يقصد، لكن بشرط أن يحصل المَسُّ مباشرة، أي من غير حائل بينهما، أما إذا كان من وراء حائل فلا يؤثر مَسُّه؛ لعدم وجود حقيقة المسِّ؛ لأن المَسَّ هو مباشرة العضو العضو؛ يدل لذلك ما رواه النسائي وغيره: "إذا أفْضَى أحدكم بيده إلى فَرْجِه وليس بينها سِتْر ولا حائل فليتوضأ".
- فيه أن مَسَّ الذَّكر ينقض الوضوء، سواء كان بشهوة أو بغير شهوة وسواء حصل المَسُّ بقصد أو بغير قصد.
- فيه حرص عروة ومروان على تحصيل العلم