ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مَنْ غَسَّل الميـِّت فلْيَغْتَسلْ، ومَنْ حَمَلَه فلْيَتَوضَّأْ».
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میت کو نہلائے، اسے چاہیے کہ خود بھی نہائے اور جو جنازہ کو اٹھائے، اسے چاہیے کہ وضو کر لے“۔
تشریح
اس حدیث کا پہلا جملہ یہ بتاتی ہے کہ جو شخص کسی میت کو غسل دے؛ چاہے میت کسی چھوٹے کی ہو یا بڑے کی، مرد کی ہو یا عورت کی اور چاہے براہ راست اپنے ہاتھ سے غسل دے یا دونوں کے درمیان کوئی آڑ ہو، جیسے ہاتھ پر کوئی کپڑے کا چیتھڑا یا دستانہ ہو، اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ جنابت جیسا معروف غسل کرلے۔ حدیث کے دوسرے جملے میں میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کاحکم دیا جارہا ہے اور یہاں وضو کی تفسیر و توضیح محض دونوں ہاتھوں کو دھولینے سے کی گئی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کے حکم سے مقصود وہ لوگ ہوں، جو میت کو اٹھانے کے خواہاں ہوں؛ تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خیال رہے کہ اس حدیث کو اس کے ظاہر پر محمول نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ کسی بھی اہل علم کی جانب سے میت کو اٹھانے کی صورت میں وضو کے واجب ہونے کا فتویٰ موجود نہیں ہے۔
تشریح: العربية
يفيد الحديث في الجملة الأولى منه أن من قام بتغسيل ميت، سواء كان الميت صغيرًا أو كبيرًا، ذكرًا أو أُنثى، بحيث باشَر تغسيله بيده أو كان بينهما حائل، كخرقة كانت على يده أو قفاز: يستحب له الغُسل المعروف المشابه لغسل الجنابة. وفي الجملة الثانية أفاد الحديث الأمر بالوضوء من حمل الميت، ويُفَسَّر الوضوء هنا بغسل اليدين فقط، أو بأن يكون أمره صلى الله عليه وسلم متجها لمن أراد أن يحمل الميت حتى يكون مستعداً للصلاة عليه، ولم يُحمل الحديث هنا على ظاهره لعدم وجود أحد من أهل العلم يقول بوجوب الوضوء من حمل الميت.
- استحباب الغُسْل على من غسَّل ميتًا كله أو بعضه.
- مشروعية الوضوء لمن أراد حَمْل الميت؛ ليكون مستعدا للصلاة عليه.
- مشروعية تغسيل الأموات، وهو فرض على الكفاية.
- وجوب الوضوء للصلاة على الميت.
- مشروعية الاستعداد للعبادة قبل أن يباشرها الإنسان.