حدیث

دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العَيْنَين وِكَاء السَّه، فإذا نَامَت العَينان اسْتٌطْلِقَ الوِكَاءُ».

ترجمہ

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“۔

تشریح

حدیث کا معنی: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں“ یعنی دونوں آنکھیں بیداری کی حالت میں سرین کی حفاظت کرتی ہیں اور ازخود سرین سے کوئی چیز نکلے، اُسے روک دیتی ہیں اور اگر کوئی چیز نکلے تو انسان اسے محسوس کر لے۔ ”جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“ یعنی انسان جب سوجاتا ہے تو اس کے بدن کے حصے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ رسی اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہے جو سرین کے دائرے کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور پھر وہا ں سے ہوا (بو) احساس ہوئے بغیر نکلنے لگتی ہے۔ حدیث کے اس ٹکڑے میں نبی ﷺ نے آنکھ کو اس رسی سے تشبیہ دی ہے جس سے برتن باندھا جاتا ہے دونوں آنکھیں اگر بیدار ہوں گی تو سرین کے دائرے پر رسی کی پکڑ مضبوط ہوگی اور وہاں سے کوئی چیز نکلی تو اسے محسوس ہو گی اس کے برخلاف جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور مشک کے اندر کی چیز اسے محسوس ہوئے بغیر نکل جاتی ہے۔یہاں پر نبی ﷺ نے انتہائی عمدہ اور لا جواب تشبیہ بطور مثال کے ذکر دی ہے تاکہ شرعی حکم کو ذہن کے قریب کیا جا سکے، اس (تشبیہ) کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے اور یہ نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: "العَيْنان وِكَاء السَّه" أي أن العينين في حال اليقظة تحفظ الدبر، وتمنع خروج الخارج منه، وإن خرج منه شيء شَعَر الإنسان به. "فإذا نَامَت العَينان اسْتَطْلَقَ الوِكَاءُ" أي أن الإنسان إذا نام حصل عنده استرخاء في عضلات البدن، فينطلق الحَبْل الذي كان يَشُد حلقة الدبر، فيخرج منه الرِّيح من غير أن يَشْعُر به. فالنبي صلى الله عليه وسلم شبه العَين بالحَبل الذي يُشَدُّ به الوِعاء فإن كانت العينان مفتوحتان كان الحَبْل مشدودا على حلقة الدبر، حتى وإن خرج منه شيء شَعَر به، وإن نامت العينان استرخى الوِكَاء، فخرج ما بداخل القِرَبة من غير أن يَشْعُر بخروجه. وهذا من باب التشبيه وهو: تشبيه بليغ من النبي صلى الله عليه وسلم ليُقَرب الحكم الشرعي إلى الأذهان، وهو من جوامع الكلم التي أوتيها النبي صلى الله عليه وسلم .

  • فيه أن خروج الرَّيح من الدُّبر من نواقض الوضوء.
  • فيه دليل على أن النوم ليس بناقضٍ بنفسه، وإنما هو مظِنَّة نقض الوضوء.
  • فيه أن النوم الناقض للوضوء هو النوم العَمِيق المستغرق الذي تسترخي معه العضلات، فتخرج الرَّيح من غير أن يشعر بها، أما إذا كان النوم خفيفا فلا ينتقض معه الوضوء.
  • يدخل في الحديث كلُّ من زال عقله؛ بجنون، أو إغماء، أو سُكْر، أو غيره، بجامع زوالِ الإحساسِ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید