حدیث

تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن علي رضي الله عنه قال: كُنَّا في جَنَازة في بَقِيعِ الغَرْقَدِ، فَأتَانَا رسول الله صلى الله عليه وسلم فَقَعَدَ، وَقَعَدْنَا حَوْلَه ومعه مِخْصَرَةٌ فَنَكَّسَ وجعل يَنْكُتُ بِمِخْصَرَتِهِ، ثم قال: «ما مِنْكُمْ من أحَدٍ إلا وقد كُتِبَ مَقْعَدُه من النَّار ومَقْعَدُه من الجنَّة» فقالوا: يا رسول الله، أفلا نَتَّكِلُ على كِتَابِنَا؟ فقال: «اعملوا؛ فَكلٌّ مُيَسَّرٌ لما خُلِقَ له...» وذكر تمام الحديث.

ترجمہ

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشريف لائے اور بيٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے سرجھکایا اور چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسا نہ کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، اس لیے کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ہوگی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے... (اس کے بعد مکمل حديث ذکر کی)۔

تشریح

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ايک صحابی کے جنازہ ميں اہل مدينہ کے قبرستان ميں تھے۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور صحابہ کے درميان بيٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ ميں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے کسی غمگين، فکرمند کی طرح اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کو کریدنےلگے، پھر فرمايا: بلا شبہ اللہ نے لوگوں کی تقديريں اور جنت اور جہنم ميں ان کے ٹھکانے لکھ ديے ہيں۔ جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔ توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔

تشریح: العربية

كان الصحابة رضي الله عنهم في جنازة أحدهم في مَقبرة أهل المدينة، فقَعَد النبي صلى الله عليه وسلم بين أصحابه، وكان بيده عصا، فنَكَّس رأسه وطأطأه إلى الأرض كالمتفكر المهموم، وجعل ينكش الأرض بالعصا، ثم قال: إن الله تعالى قد كتب مقادير الناس وكتب مقاعدهم في الجنَّة وفي النَّار. فلما سمعوا ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: ما دام أنه قد سبق القضاء والقدر؛ بأن الشقي شقي، وأن السعيد سعيد، وأن الذي في الجنة في الجنة، والذي في النار في النار، فما دام الأمر كذلك، ألا نترك العمل؛ لأنه لا فائدة في السعي، فإن كل شيء مكتوب ومُقدر. فأجابهم بقوله: اعملوا ولا تتكلوا على ما قَدَّره الله من خير أو شرٍّ، بل اعملوا بمقتضى ما أمرتم به وانتهوا عما نُهيتم عنه، فإن الجنة لا تأتي إلا بعمل والنار لا تأتي إلا بعمل، فلا يدخل النار إلا من عمل بعمل أهل النار، ولا يدخل الجنة إلا من عمل بعمل أهل الجنة، فَكلٌّ مُيَسَّرٌ لما خُلِقَ له من خَيْرٍ أو شَرٍّ، فمن كان من أهل السعادة يسره الله لعمل أهل السعادة، ومن كان من أهل الشقاوة يسره الله لعمل أهل الشقاوة.

  • استحباب الموعِظة على القبر.
  • جواز القعود في المقبرة بشرط أن لا يؤذوا الأموات بجلوسهم على قبورهم.
  • إثبات القدر، وأن كل شيء مكتوب ومقدر قبل أن يقع، وإثبات الإرادة للإنسان، وأن ما يريده ويفعله يقع موافقًا لإرادة الله -تعالى-.
  • الله -عز وجل- يُيَسِّر من سبق في علمه أنه من أهل السعادة إلى عمل أهل السعادة، ومن كان من أهل الشقاوة يُيَسِّره لعمل أهل الشقاوة.
  • لا يجوز الاحتجاج بالقدر على المعاصي، وذلك لأن العبد ما كان يعلم قبل عمله ما سيكون، ولكن باختياره وفعله ظهر له ما كان قد سبق في عِلم الله -تعالى-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید