حدیث

جس مسلمان کے متعلق چار آدمی بھلائی کی گواہی دے ديں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي الأسود، قال: قَدِمْتُ المدينة، فَجَلَسْتُ إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فَمَرَّتْ بهم جَنازة، فَأُثْنِيَ على صاحِبِها خيراً، فقال عمر: وجَبَتْ، ثم مَرَّ بأُخْرَى فَأُثْنِيَ على صاحِبِها خيراً، فقال عمر: وجَبَتْ، ثم مَرَّ بالثالثة، فَأُثْنِيَ على صاحِبِها شَرَّا، فقال عمر: وجَبَتْ، قال أبو الأسود: فقلت: وما وجَبَتْ يا أمير المؤمنين؟ قال: قلت كما قال النبي صلى الله عليه وسلم : «أيُّما مُسلم شَهِد له أربعة بخير، أدخله الله الجنة» فقلنا: وثلاثة؟ قال: «وثلاثة» فقلنا: واثنان؟ قال: «واثنان» ثم لم نَسْأَلْهُ عن الواحد.

ترجمہ

ابوالاسود فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ لوگوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی،تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر ایک اور جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کا بھی ذکرخير کيا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہو گئی“۔ پھر تيسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی۔ اس بار بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہو گئی“۔ ابو الاسود کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اميرالمومنين کيا چیز واجب ہوگئی؟ انہوں نے جواب دیا: ميں نے وہی بات کہی ہے جو نبی ﷺ نے فرمائی ہے: ”جس مسلمان کے متعلق چار آدمی بھلائی کی گواہی دے ديں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرےگا“۔ ۔ہم نے عرض کيا:اور تين لوگ (جس کےحق ميں گواہی ديں) تو؟ آپ ﷺ نے فرمايا:”اور تين آدمی بھی“۔ ۔ہم نے عرض کيا: اور دو لوگ (جس کےحق ميں گواہی ديں)؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: ”اوردو لوگ بھی“۔ پھر ہم نے آپ ﷺ سے ایک شخص کے بارے میں نہیں پوچھا۔

تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سےایک جنازہ گزرا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ بيٹھے تھے۔ ان لوگوں نے ميت کے لیے خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہوگيا۔ پھر ایک دوسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے پہلے جنازہ کی طرح اس کے لیے بھی خیر و صلاح کی گواہی دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ پھر تيسرا جنازہ گذرا تو لوگوں نے اس کے لیے برے حال کی کی گواہی دی۔تو اس پر بھی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے ليے يہ ثابت ہو گيا۔ ابو الاسود‘ عمر رضی اللہ عنہ کی بات سمجھ نہ سکے تو اس کے مفہوم کی وضاحت چاہی۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نےکہا کہ ميں نے وہی کہا ہے جو نبی ﷺ نے فرمايا تھا: جس مسلمان کے متعلق چار اچھے اور نیک لوگ یہ گواہی دے ديں کہ وہ اچھے اور نیک لوگوں میں سے ہے تو اس کے ليے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے جب آپ ﷺ سے يہ بات سنی تواس شخص کے بارے ميں پوچھا جس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی ديں؟ تو آپ ﷺ نے فرمايا: اور اسی طرح اگر اس کے اچھے ہونے کی تين لوگ گواہی دیں تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ صحابہ نے عرض کيا: کیاجس کے لیے دو لوگ گواہی ديں اس کے لیے بھی جنت ہے؟” آپ ﷺ نے فرمايا:“ جس کے ليے دو گواہ ہوں تو اس کےليے بھی جنت ہے۔(راوی کہتے ہیں) اور ہم نے آپ سے اس شخص کے بارے ميں دريافت نہيں کيا جس کے حق ميں صرف ايک آدمی خیر کی گواہی دے‘ کيا وہ جنت ميں داخل ہوگا؟

تشریح: العربية

مَرَّت جَنازة على عمر رضي الله عنه وكان معه بعض الناس، فشهدوا لها بالخير والصلاح، فقال عمر رضي الله عنه : ثبت له ذلك، ثم مَرَّت جَنازة أخرى، فشهدوا لها بالخير والصلاح كالجنازة الأولى، فقال عمر رضي الله عنه : ثبت له ذلك، ثم مَرَّت جَنازة ثالثة، فشهدوا عليها بسوء حالها، فقال عمر رضي الله عنه : ثبت لها ذلك. فأشكل على أبي الأسود قول عمر رضي الله عنه فأراد بيان معنى ذلك، فقال رضي الله عنه: قلت كما قال النبي صلى الله عليه وسلم : أيُّما مُسلم شَهِد له أربعة من أهل الخير والصلاح أنه من أهل الخير والصلاح، ثبتت له الجنة، فقال الصحابة عندما سمعوا ذلك من النبي صلى الله عليه وسلم : ومن شهد له ثلاثة بخير؟ قال: وهكذا لو شهد له ثلاثة بخير وجَبَتْ له الجنَّة، فقال الصحابة: ومن شهد له اثنان، هل يكون من أهل الجنَّة؟ قال: ومن شهد له اثنان وجَبَتْ له الجنَّة، ولم نسأله عَمَّن شَهِد له واحد من الناس بالخير أيدخل الجنَّة؟

  • جواز الثناء على الميت بخلاف الحي؛ لأن فيه شهادة له عند الله تعالى، بخلاف الحي فإنه قد يكون سبباً في الرياء أو الكبر، وغير ذلك من أمراض النفوس.
  • المُعتبر في مثل هذه الشهادة أهل الفضل والصدق دون غيرهم من الفسقة والمنافقين، فإن شهادتهم مردودة عليهم.
  • جواز ذكر المرء بما فيه من خَير أو شَرٍّ ولا يكون ذلك من الغِيبة.
  • المؤمنون لا يختلفون في تقييم الرجال؛ لأنهم ينطلقون من أصل ثابت، وهو اعتبار أعمال الناس بالكتاب والسنة لا العكس ، ولذلك اعتبرت شهادة الأربعة والثلاثة والاثنين.
  • جواز الشهادة قبل الاستشهاد، وقبولها قبل الاستفصال.
  • جواز السؤال حال وجود الإشكال في كلام المتكلم.
  • تأسي عمر-رضي الله عنه- بسنة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید