حدیث

تم میں سے جو بھی عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے (یعنی وہ فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائيں گے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي سعيد الخُدْرِي رضي الله عنه قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ذهب الرجال بِحَدِيثِكَ، فاجْعَل لنَا من نَفْسِك يومًا نَأتِيكَ فيه تُعَلِّمُنَا مما عَلَّمَكَ الله، قال: «اجْتَمِعْنَ يَوَم كَذَا وكَذَا» فَاجْتَمَعْنَ، فأتَاهُنَّ النبي صلى الله عليه وسلم فَعَلَّمَهُنَّ مما عَلَّمَهُ الله، ثم قال: «ما مِنْكُنَّ من امرأة تُقَدِّمُ ثَلاَثَة من الولد إلا كانوا حِجَابًا من النَّارِ» فقالت امرأة: واثنين؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «واثنين».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی باتیں تو مرد حضرات ہی لے گئے، لہذا آپ اپنی طرف سے ایک دن ہمارے ليے بھی مقرر کر دیں، اس دن ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور آپ ہميں ان باتوں کی تعلیم دیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم فلاں فلاں دن جمع ہو جاؤ۔ پس وہ جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جو اللہ تعالی نے آپ کو سکھلائی تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو بھی عورت اپنے تین بچے آگے بھیج دے (یعنی وہ فوت ہو جائیں) تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ بن جائيں گے۔ ایک عورت نے کہا: اور دوبچوں کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو کا بھی یہی حکم ہے۔

تشریح

ایک عورت نے نبی کريم ﷺ سےعرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد حضرات آپ کاسارا وقت لے ليتے ہيں اور ہميں آپ سے ملاقات کر نے اور دين کے متعلق کچھ دريافت کرنے کا وقت ہی نہيں ملتا ہےکيونکہ وہ لوگ دن بھر آپ کے ساتھ رہتے ہيں۔ لہذا آپ ہم عورتوں کے لیےکوئی خاص دن مقرر کر دیں جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ آپ ہميں دين کی باتيں سکھلائيں۔ آپ ﷺ نے عورتوں کے اجتماع کے لیے ايک دن خاص کرديا، پس وہ خواتين اس مخصوص دن ميں جمع ہو گئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اورآپ ﷺ نے انہیں اللہ کی سکھلائي ہوئي بعض ان باتوں کی تعلیم دی جن کی وہ ضرورت مند تھيں، پھر آپ ﷺ نے انہيں خوشخبري دی کہ ان ميں سے جس بھي عورت کے تين لڑکے يا تين لڑ کيوں کا انتقال ہو جاتا ہے اور وہ عورت صبر واحتساب کے ساتھ انہيں دار آخرت کے ليے پہلے بھيج ديتي ہے تو اس خاتون کي يہ مصيبت اس کے ليے جہنم سے نجات کا ذريعہ بن جائے گی، اگر چہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہی کيوں نہ رہی ہو۔ اس پر ایک عورت نے کہا: اگر اس کے دو بچوں کی وفات ہوئی ہو، تو کيا اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچوں کی وفات ہوجائے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اور اسي طرح اگر کسي عورت کے دو بچے انتقال کرجائيں، تو اس کے ليے بھی وہی اجر وثواب ہے جو اس عورت کے ليے ہے جس کے تين بچے انتقال کرجائيں۔

تشریح: العربية

قالت امرأة للنبي صلى الله عليه وسلم : شغلك عنَّا الرجال الوقت كله، فأصبحنا لا نجد وقتا نَلقَاك فيه ونسألك عن ديننا، لملازمتهم لك سائر اليوم؛ فخُصَّنا معشر النساء بيوم نَلقَاك فيه لتُعَلِّمَنا فيه أمور ديننا، فخَصص النبي صلى الله عليه وسلم لهنَّ يوما يجتمعن فيه، فاجتمعت النسوة في اليوم الذي خَصَّه النبي صلى الله عليه وسلم لهُنَّ، فأتاهن فعلمهن مما علمه الله مما يحتجن إليه من العلم، ثم بَشَّرهن أنه ليس مِنْهنَّ امرأة يموت لها ثلاثة من أولادها ذكوراً أو إناثاً فتقدمهم للدار الآخرة صابرة محتسبة إلا كان مُصابها فيهم وقاية لها من النَّار وإن استوجبتها بذنوبها، فقالت امرأة: وإن مات لها اثنان، هل لها أجْر من مات لها ثلاثة من الولد؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وكذلك إن مات لها اثنان من الولد، فأجْرُها أجْرُ من مات لها ثلاثة من الولد.

  • أولاد المسلمين في الجنَّة؛ لأنه يبعد أن الله تعالى يَغفر للآباء بفضل رحمته للأبناء، ولا يرحم الأبناء، بل كتاب الله تعالى ناطق بذلك، قال تعالى: (والذين أمنوا واتبعتهم ذريتهم بإيمان ألحقنا بهم ذريتهم).
  • البشارة بالجنَّة لمن فَقَدَت ثلاثة أو اثنين من أولادها.
  • على قَدْرِ المصيبة يكون الأجر.
  • ينبغي على العالم تنبيه المتعلم على أمور هو بحاجتها أكثر من غيرها، فها هو رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يحث النساء على الصبر عند فَقْد الأولاد؛ لأنهن يكثرن النياحة، ويظهرن الجَزع أكثر من الرجال.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- واستجابته لطلب المرأة وحرصه على تعليم النساء ما يَخصُهن من الأمور.
  • تعليم المرأة ما ينفعها مشروع، بشرط عدم الخلوة، والبُعد عن أسباب الفتنة.
  • جواز تخصيص يوم لتعليم النساء.
  • رغبة نساء الصحابة -رضي الله عنهن- وحرصهن لأخذ العلم.
  • حق المرأة في العلم، فإنها مُكلفة شرعاً، والعلم واجب عليها ليصلح به أمر دينها، ودنياها وتكون عضواً صالحا ًونافعاً في المجتمع.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید