حدیث

بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه مسلم

عربی متن

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ».

ترجمہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز کی پابندی کرنے والے مسلمان جزیزۂ عرب میں اس کی عبادت اور بتوں کے سامنے سجدہ کریں گے۔ لیکن آج بھی اس کی خواہش کم نہيں ہوئی ہے۔ آج بھی اس بات کے لیے اس کی کوشش جاری ہے کہ ان کو اکسا کر ان کے درمیان لڑائی، جھگڑا اور فتنہ وفساد برپا کر دیا جائے۔

فوائد

  • شیطان کی عبادت بت کی عبادت ہے۔ کیوں کہ وہی اس کا حکم دیتا ہے اور اس کی جانب بلاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا تھا : "اے ابا جان! شیطان کی عبادت نہ کریں..."
  • شیطان مسلمانوں کے درمیان دشمنیاں، عداوتیں، جنگیں اور فتنے برپا کرنے کى تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔
  • اسلام میں نماز کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی محبت کو برقرار رکھتی ہے اور ان کے درمیان بھائی چارے کے بندھن کو مضبوط کرتی ہے۔
  • دونوں شہادتوں کے بعد نماز دین کے شعائر میں سب سے زیادہ عظمت والى ہے اور اسی لیے اس حدیث میں مسلمانوں کو مصلِّیوں (نمازیوں) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
  • جزیرۂ عرب کی چند خصوصیات ایسی ہیں، جو دوسرے ممالک اور علاقوں کو حاصل نہیں ہیں۔
  • اگر کوئی کہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم فرما رہے ہیں: "شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مسلمان جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے۔" جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جزیرۃ العرب کے کچھ حصوں میں بتوں کی پوجا ہو رہی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں بات اسلامی فتوحات اور اسلام کے اندر لوگوں کے گروہ در گروہ داخل ہونے کو دیکھ کر شیطان کے دل میں چھانے والی مایوسی کی ہو رہی ہے۔ دراصل یہ حدیث شیطان کے ظن اور توقع کی بات کر رہی ہے۔ لیکن بعد میں اس کے برخلاف ہوا، جس کے پیچھے اللہ کی کوئی مصلحت ہوگی۔
تشریح: العربية

‏أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنَّ إبليس أَيِسَ أنْ يَعُوْدَ المؤمنون المصلون لعبادته والسجود للصنم في جزيرة العرب، ولكنه لا زال يَطْمَع، ولا زال جهده وكَدُّه وعملُه وسعيُه في التَّحريش بينهم بالخصومات والشَّحْنَاء والحروب والفتن ونحوها.

  • عبادة الشيطان عبادة الصنم، لأنه الآمِرُ به والداعي إليه، بدليل قوله تعالى عن إبراهيم عليه السلام: (يا أبت لا تعبد الشيطان…).
  • الشيطان يَسعى في إيقاع الخصومات والشَّحْناء والحروب والفتن بين المسلمين.
  • من فوائد الصلاة في الإسلام أنها تَحفظ المَوَدّة بين المسلمين، وتُقَوِّي روابط الأُخُوّة بينهم.
  • الصلاة أعظم شعائر الدين بعد الشهادتين، ولذلك أطلق على المسلمين المُصَلِّين.
  • جزيرة العرب لها خصائص دون غيرها من البلاد.
  • إن قيل قد وقع في بعض جزيرة العرب عبادة الأصنام، والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: (إن الشيطان قد أيس أن يعبده المصلون..)، فهذا إخبار عما وقع في نفس الشيطان مِن اليأس لِمَا رأى الفتوح، ودخول الناس في دين الله أفواجًا، فالحديث أخبر عن ظن الشيطان وتوقُّعِه، ثم كان الواقع بخلاف ذلك لحكمة يريدها الله عز وجل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید