حدیث

ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي مسعود البَدْري رضي الله عنه قال: كنت أضرب غُلاما لي بالسَّوْط، فسمعت صوتا من خَلفِي: «اعلم أبَا مسعود» فلم أفْهَم الصَّوت من الغَضَب، فلمَّا دَنَا مِنِّي إذا هو رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو يقول: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام». فقلت: لا أَضرب مملوكا بعده أبدًا. وفي رواية: فسقط السَّوط من يَدي من هَيْبَتِه. وفي رواية: فقلت: يا رسول الله، هو حُرٌّ لوجه الله تعالى، فقال: «أمَا لو لم تفعل، لَلَفَحَتْكَ النَّار، أو لَمَسَّتْكَ النَّار».

ترجمہ

ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کوڑے سے اپنے ایک غلام کو ماررہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی:ابو مسعود!جان لو۔ لیکن میں غصے کی وجہ سے وہ آواز پہچان نہ سکا۔جب آوازدینے والا میرے قریب ہوا تو (معلوم ہوا کہ) وہ رسول اللہ ﷺ تھے اور فرما رہے تھے کہ ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس کے بعد کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کی ہیبت سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! یہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے (آزاد) نہ کرتے تو آگ تمہیں جھلسا دیتی یا آگ تمہیں چھو لیتی۔

تشریح

ابو مسعود رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے ما رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی جو انہیں ڈاٹ رہی تھی۔ وہ پہچان نہ پائے کہ آواز دینے والا کون ہے۔ جب آواز دینے والا قریب آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی آواز ہے۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے انہیں اللہ عز و جل کی قدرت یاد دلا رہے تھے کہ ’’اے ابو مسعود! یہ جان رکھو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو‘‘۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی بات سنی اور کمزور پر دست درازی کے بارے میں آپ ﷺ کی تحذیر ان تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ اس کے بعد وہ کسی غلام کو نہیں ماریں گے۔ نبی ﷺ سے اس ڈانٹ اور ڈراوے کو سن کر انہوں نے مار کے کفّارے کے طور پر اس غلام کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو قیامت کے دن تمہارے اس برے عمل کی وجہ سے تمہیں جہنم کی آگ چھو لیتی۔

تشریح: العربية

كان أبو مسعود رضي الله عنه يَضرب غلامه بالسَّوط، فسمع صوتا يَزجره عن خلفه، فلم يُمَيِّز صوت القائل، فلما اقترب منه علم أنه صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإذا هو يذكره بقدرة الله عز وجل بقوله: «اعلم أبَا مسعود أن الله أقْدَرُ عليك مِنْك على هذا الغُلام». فلما سمع كلام النبي صلى الله عليه وسلم وتحذيره من التعدي على الضعيف، سقط السَّوط من يده هيبة لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، والتزم للنبي صلى الله عليه وسلم أن لا يَتعدى على مملوك بعد هذا أبدا. وبعد أن سمع ما سمعه من النبي -صلى الله عليه و سلم- من زجر وتحذير، ما كان منه رضي الله عنه إلا أن أعتقه كفارة عن ضرب، فقال صلى الله عليه وسلم : لو لم تعتقه لأصابتك النار يوم القيامة لسوء فعلتك.

  • الرفق بالخدم والمماليك إذا لم يذنبوا، أما إذا أذنبوا فقد رخَص الشرع بتأديبهم بِقَدِر إثمهم.
  • هيبة النبي -صلى الله عليه وسلم- في نفوس أصحابه.
  • انقياد الصحابة والتزامهم بإرشاداته وتوجيهاته -صلى الله عليه وسلم-.
  • عِتق المملوك كفارة لضربه.
  • أن الصحابة غير معصومين من الأخطاء.
  • بيان رحمة النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • أن تعذيب المملوك مُستوجب للنار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید