حدیث

آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق لحاجته، فرأينا حُمَّرَةً معها فرخان، فأخذنا فرخيها، فجاءت الحُمَّرَةُ فجعلت تَعْرِشُ فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها» ورأى قرية نمل قد حرقناها، فقال: «من حَرَّقَ هذه؟» قلنا: نحن قال: «إنه لا ينبغي أن يعذِّب بالنار إلا رب النار».

ترجمہ

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ ۔ہم نے (چڑیا کی مانند چھوٹا) ایک سرخ پرندہ دیکھاجس کے ساتھ دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ تو وہ پرندہ آیا اور ان کے گرد منڈلانے لگا۔ اتنے میں نبیﷺ تشریف لے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس پرندے کو اس کے بچوں کی وجہ سے کس نے تکلیف پہنچائی ہے؟ اسے اس کے بچے واپس لوٹا دو۔“ پھر نبی ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جس کو ہم نے جلا دیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے(جلایا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آگ کا عذاب دینا صرف آگ کے رب کے شایانِ شان ہے۔

تشریح

ابن مسعود رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ پھر آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو صحابہ کرام نے ایک حُمَرة دیکھا، یہ پرندوں کی ایک قسم ہے۔ اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، صحابہ کرام نے اس کے بچوں کو پکڑ لیا۔ چنانچہ وہ پرندہ ان کے گرد منڈلانے لگا، جیسے پرندوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر ان کے بچوں کو پکڑ لیا جائے تو وہ منڈلانے اور ارد گرد گھومنے لگتے ہیں اور اپنے بچوں کی گم شدگی پر چلاتے ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے بچوں کو چھوڑ دیا جائے۔ صحابہ کرام نے اس کے بچے چھوڑ دیے۔ پھر چیونٹیوں کی ایک بستی یعنی ان کے رہنے کی جگہ سے گزرے، جسے جلا دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے کس نے جلایا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ہم نے جلایا ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”آگ سے عذاب دینا صرف آگ کے رب (یعنیاللہ) کے شایانِ شان ہے“۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرما دیا۔ اس حدیث کے پیشِ نظر اگر آپ کا واسطہ چیونٹیوں سے پڑے، تو آپ انہیں آگ سے نہیں جلائیں گے۔ بلکہ کوئی ایسی چیز رکھ دیں جو انہیں بھگا دے جیسے گیسولین جو کہ ایک معروف مائع ایندھن ہے، جب آپ اس کو زمین پر انڈیل دیں گے تو وہ ان شاء اللہ بھاگ جائیں گی اور واپس نہیں لوٹیں گی۔ اگر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو سوائے اس کے کہ کیٹناشک کا استعمال کیا جائے جو حتمی طور پر انہیں مار ڈالے یعنی چیونٹیوں کو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ یہ ان کی گزند کو دور کرنا ہے، ورنہ تو چیونٹیاں ان حشرات میں سے ہیں جنہیں قتل کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے، لیکن اگر وہ آپ کو تکلیف کا پہنچائے اور قتل کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو ان کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

تشریح: العربية

يخبر ابن مسعود رضي الله عنه أنهم كانوا في سفر مع النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم إنه صلى الله عليه وسلم مضى لحاجته فوجد الصحابةُ حُمَّرةً، وهي نوع من الطيور، معها ولداها، فأخذوا ولديها، فجعلت تَعْرِش، يعني تحوم حولهم، كما هو العادة أن الطائر إذا أخذ أولاده جعل يعرض ويحوم ويصيح لفقد أولاده، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم أن يطلق ولديها لها، فأطلقوا ولديها. "ثم مَرَّ بقرية نَمْل" يعني مجتمع النمل، "قد أُحْرِقت فقال: من أحرق هذه؟ قالوا: نحن يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إنه لا يْنِبغِي أن يُعذب بالنار إلا ربُّ النار" فنهى عن ذلك، وعلى هذا إذا كان عندك نمل فإنك لا تحرقها بالنار وإنما تضع شيئًا يطردها مثل الجاز، وهو سائل الوقود المعروف إذا صببته على الأرض فإنها تنفر بإذن الله ولا ترجع، وإذا لم يمكن اتقاء شرها إلا بمبيد يقتلها نهائيًّا، أعني النمل، فلا بأس؛ لأن هذا دفع لأذاها، وإلا فالنمل مما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن قتله، لكن إذا آذاك ولم يندفع إلا بالقتل فلا بأس بقتله.

  • مشروعية الاستتار لقضاء الحاجة.
  • النهي عن تَعْذِيب الطيور وأخذ أولادها.
  • النهي عن إحراق النَّمل والحَشَرات بالنَّار.
  • الحثُّ على الرَأفة والرحمة بالحيوان، وسبق الإسلام للغرب في ذلك.
  • التعذيب بالنار مما اختص به المولى -عز وجل-.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید