حدیث

اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم : أرأيت الرَّجل الذي يعمل العمل من الخَير، ويَحمدُه الناس عليه؟ قال: «تلك عاجِل بُشْرَى المؤمن».

ترجمہ

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گيا کہ اس شخص کے بارے ميں آپ کا کيا خيال ہے جو نيک عمل کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے“۔

تشریح

حدیث کا مفہوم: بندہ اللہ کی خاطر کوئی نیک عمل کرتا ہے اور اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا نہیں ہوتا ہے پھر لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلان شخص بہت زیادہ بھلائی کرنے والا ہے، فلان شخص بہت زیادہ نيکی کرنے والا ہے، فلان شخص مخلوق کے ساتھ بہت احسان کرنے والا ہے اور اسی طرح کی دیگر ستائش بھری باتیں کہتے ہیں، توآپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔''یعنی اس کی مدح و ستائش اس کے لیے پیشگی بشارت ہے; کیونکہ لوگ جب کسی شخص کی تعریف کرتے ہیں تو وہ زمین پر اللہ کے گواہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب ایک جنازہ نبی ﷺ کے پاس سے گزرا اور آپ ﷺ کے صحابۂ کرام نے اس کا ذکر خیر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، پھر ایک دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کا برے طور پر ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''واجب ہوگئی''، چنانچہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عليہم اجمعين نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم! کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہلے جنازے کے لئے جنت واجب ہوگئی اور دوسرے کے لئے جہنم واجب ہوگئی, تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔'' آپ ﷺ کے فرمان: ''یہ مومن کے لیے پيشگی خوش خبری ہے۔'' کا مطلب یہی ہے۔ اس ميں اور ریاکاری میں فرق یہ ہے کہ ریاکار شخص عمل ہی اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے دیکھ کر اس کی تعریف کریں، اس صورت میں وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنے کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ جب کہ اس دوسرے شخص کی نیت خالصتا اللہ عزوجل کے لئے ہوتی ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں گزرتا کہ لوگ اس کی تعریف یا برائی کریں۔ اب اگرلوگوں کو اس کے نیک اعمال کا علم ہوجائے اور وہ اس پر اس کی مدح و ستائش کریں تو یہ ریا کاری نہيں ہے، بلکہ پيشگی خوش خبری ہے۔ اس کے اور حدیث میں جس صورت کا بیان ہے اس کے مابين بڑا فرق ہے۔

تشریح: العربية

معنى الحديث: أن الرَّجُل يعمل عملا صالحا لله لا يقصد به الناس، ثم إن الناس يمدحونه على ذلك. يقولون فلان كثير الخير فلان كثير الطاعة فلان كثير الإحسان إلى الخلق وما أشبه ذلك فقال صلى الله عليه وسلم : "تلك عاجل بشرى المؤمن" وهو الثناء عليه؛ لأن الناس إذا أثنوا على الإنسان خيرًا فهم شهداء الله في أرضه ولهذا لما مَرَّت جَنازة من عند النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه أثنوا عليها خيرا قال وجبت، ثم مرَّت أخرى فأثنوا عليها شرًا قال وجبت فقالوا يا رسول الله ما وجبت قال: "أما الأول فوجبت له الجنة وأما الثاني فوجبت له النار أنتم شهداء الله في الأرض". فهذا معنى قوله: "تلك عاجل بشرى المؤمن". والفرق بين هذه وبين الرياء أن المرائي لا يعمل العمل إلا لأجل أن يراه الناس ويثنون عليه فيكون في هذه الحال قد أشرك مع الله غيره، وأما هذا فنيته خالصة لله عز وجل ولم يطرأ على باله أن يمدحه الناس أو يذموه فإذا علموا بطاعته ومدحوه وأثنوا عليه فهذا ليس برياء هذا عاجل بشرى، والفرق بين هذا وبين ما ذُكر في الحديث فرق عظيم.

  • أن الإخلاص لله -تعالى- وقصد التَّقرب إليه لا يُعَكِّره ثناء الناس عليه، بل إن إطلاق الله -تعالى- لألسنة الناس بالثناء عليه، دليل على القبول، وشهادة صادقة وبشرى عاجلة بالفوز والفلاح.
  • لا يدخل في الرياء عمل العبد إذا أخلص عمله لله تعالى وحمده الناس عليه.
  • دليل على رضا الله ومحبته لهذا العبد، و أنه يحبب فيه الخلق لإخلاصه ولذلك يكتب له القبول في الأرض.
  • التَّعرض لمدح الناس مذْمُوم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید