ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضيَ اللهُ عنه قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي.
ترجمہ
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ميں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے (عورت پر) اچانک پڑنے والی نظر کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے مجھے نظر پھیر لینے کا حکم دیا۔
تشریح
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اگر کسی مرد کی نظر کسی اجنبی عورت پر اچانک بلا قصد و ارادہ پڑ جائے، تو وہ کیا کیا کرے؟ تو آپ نے ان سے کہا کہ جیسے ہی اسے اس کا احساس ہو، وہ فورا اپنی نظر دوسری جانب کر لے۔ اگر ایسا کرلیتا ہے، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
فوائد
- نگاہ نیچی رکھنے کی ترغیب۔
- جسے دیکھنا حرام ہو، اگر اس پر اچانک بلا ارادہ نظر پڑ جائے، تو اسے دیکھتے رہنا حرام ہے۔
- اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ جانتے تھے کہ کسی اجنبی عورت کو دیکھنا حرام ہے۔ اس کى دلیل یہ ہے کہ جریر رضی اللہ عنہ نے بلا ارادہ نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا اور معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا اس کا حکم بھی قصدا نظر ڈالنے ہی کا ہے؟
- اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شریعت بندوں کے مصالح پر توجہ دیتی ہے۔ چوں کہ عورتوں کو دیکھنے کے نتیجے میں کئی دنیوی اور اخروی مفاسد لازم آتے ہيں، اس لیے اسے حرام قرار دے دیا۔
- صحابہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے رجوع کرتے اور جو باتیں معلوم نہيں ہوتیں، آپ سے پوچھ لیا کرتے تھے۔ لہذا عام لوگوں کو بھی علما سے رجوع کرنا چاہیے اور جو باتیں سمجھ میں نہ آئيں، پوچھ لینی چاہیے۔
تشریح: العربية
سَأَلَ جَريرُ بن عبد الله رضي الله عنه النبيَّ صلى الله عليه وسلم عن نَظَرِ الرَّجُلِ للمرأةِ الأجنبيةِ عنه بَغْتَةً مِن غير قَصْدٍ؟ فأمرَه صلى الله عليه وسلم يَجِبُ عليه أن يَفْتِلَ وجهَه إلى الشِّقِّ الآخَرِ والناحيةِ الأخرى فَوْرَ عِلْمِهِ، وليس عليه إثم.
- الحضُّ على غضِّ البَصَر.
- التحذير من إدَامَةِ النظرِ لِمَا يَحْرُمُ النظرُ إليه إذا وَقَعَ عليه البَصَرُ بَغْتةً ومن غير قصد.
- فيه أنَّ تحريم النظرِ إلى النساء أمرٌ مُستقرٌّ عند الصحابة بدليل أن جرير رضي الله عنه سأل النبيَّ صلى الله عليه وسلم عمّا لو وقع نظرُه على امرأة من غير قصد، فهل حكمه حكم من قصد النظر؟
- فيه عناية الشرع بمصالح العباد، فإنه حرَّم عليهم النظر إلى النساء لما يترتب عليه من مفاسد دنيوية وأخروية.
- رجوع الصحابة إلى النبي صلى الله عليه وسلم وسؤاله عما يُشكل عليهم، وهكذا ينبغي للعامة الرجوع إلى علمائهم وسؤالهم عما أَشكَلَ عليهم.