ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لِبْسَةَ المرأة، والمرأة تلبس لِبْسَةَ الرجل.
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مرد کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص لباسوں کو زیب تن کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ مشابہت چاہے کپڑے کی ہیئت میں ہو، رنگ میں ہو، کیفیت میں ہو یا پہننے اور زینت اختیار کرنے وغیرہ کے طریقے میں ہو۔ اسی طرح آپ نے ہر ایسی عورت کے حق میں اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے جو مردوں کے ساتھ خاص لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہ ہے۔
فوائد
- شوکانی کہتے ہيں: عورت کے لیے مرد کی اور مرد کے لیے عورت کی مشابہت حرام ہے۔ کیوں کہ لعنت کسی حرام کام پر ہی کی جاتی ہے۔
- ابن عثیمین کہتے ہيں: جو کپڑے مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہوں، جیسے وہ ٹی شرٹ جنھیں مرد اور عورت دونوں پہنتے ہيں، تو انھیں پہننے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ یعنی انھیں مرد اور عورت دونوں پہن سکتے ہيں۔ کیوں کہ یہ مشترک ہے۔
تشریح: العربية
دَعَا النبيُّ صلى الله عليه وسلم بالطَّرْدِ والإبعاد من رحمة الله لكلِّ رجلٍ يتشبَّه بالمرأة في الملابس الخاصة بالنساء؛ سواء في الهيئة أو اللون أو الكيفية أو طريقة اللبس والزينة أو غير ذلك، أو أن تتشبَّهَ المرأةُ باللبس الخاص بالرجال كذلك، وهو كبيرة من كبائر الذنوب.
- قال الشوكاني: تحريم تشبه النساء بالرجال والرجال بالنساء؛ لأن اللعن لا يكون إلا على فعل محرم.
- قال ابن عثيمين: ما كان مشتركًا بينهما مثل بعض الفنائل التي يلبسها الرجل والنساء فإنه لا بأس به، أي لا بأس أن يلبسَه الرجال والنساء؛ لأنه مشترك.